مسافرکینماز
بحریجہازکاعملہمسافرہے،شہریبندرگاہپروہمقیمبنسکتاہے
سوال:۔
میں ایک بحری جہاز میں چیف انجینئر ہوں، زندگی کا بیشتر حصہ سمندروں میں سفر پر گزرتا ہے، مجھے اور میرے دُوسرے ساتھیوں کو حسبِ عہدہ رہائش، خوراک کی جملہ ضروریات (مجوّزہ قانون کے تحت) میسر ہیں، یہ ٹھیک ہے کہ ہمیں بعض دفعہ لگاتار بغیر رُکے دو دو ماہ تک سفر میں رہنا پڑتا ہے، چند دن کسی بندرگاہ پر رُکے، اور پھر سفر شروع ہوجاتا ہے۔ جہاز کسی بھی بندرگاہ پر پندرہ دن سے زیادہ نہیں ٹھہرتا (بعض دفعہ ایک ماہ بھی رُک جاتا ہے)۔ میں بفضلہ تعالیٰ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ باجماعت اور بعض دفعہ اکیلے جیسا بھی موقع ہو، اپنی نمازیں فقہِ حنفی کے تحت اہلِ سنت والجماعت کے طریقے پر ادا کرتا ہوں، ہم سب اپنے آپ کو مسافر تصوّر نہیں کرتے، (کیونکہ جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کی کہ ہمیں رہائش و خوراک اور پُرسکون ماحول حسبِ عہدہ میسر ہے)۔
چند دن ہوئے ہمارے ایک نئے ساتھی نے جو کیپٹن کے عہدے پر فائز ہوکر ہمارے جہاز کے عملے میں آشامل ہوئے ہیں، ہماری نماز کی ادائیگی پر اعتراض کیا ہے، اور اپنے اعتراض کے جواز میں ایک مولانا صاحب کا تحریری فتویٰ بھی دِکھایا ہے، جس کا لبِ لباب یہ ہے کہ: ’’بحری جہازوں کے عملے اور کارکنوں کو اپنی نمازیں بحیثیت مسافر کے ادا کرنی چاہئیں، (یعنی اختصار کے ساتھ فرض نماز آدھی)، بصورتِ دیگر وہ سنتِ نبوی کے منکر ہوں گے۔‘‘ مولانا صاحب! آپ ہمیں مندرجہ بالا حالات کے تحت جو درج کئے گئے ہیں شش و پنج سے نکالیں، کیا بحری جہاز کے عملے/ کارکن کو پوری سہولتیں میسر ہونے کے باوجود اپنے آپ کو مسافر تصوّر کرنا چاہئے؟ یا اپنی نمازیں مکمل طور پر ساکن کے تصوّر پر پڑھنی چاہئیں؟ جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے مسافر کو اختصار کے ساتھ ادا کرنے کا حکم (سنتِ نبوی اور حکمِ خدواندی کے تحت) دیا جانا، سفر کی تکالیف اور مشکلات کی وجہ سے ہے۔ مولانا صاحب! اس بات کا کیا جواز ہے کہ مسافر سہولت کی خاطر فرض نماز تو اختصار کے ساتھ پڑھے، جبکہ بقیہ نماز کی سنتیں اور نوافل پورے ادا کرے؟ میرے عرض کرنے کا مدعا یہ ہے کہ مسافر کو اگر سہولت ہی لینی ہے تو صرف فرض نماز کے لئے کیوں، پوری نماز کے لئے کیوں نہیں؟ سنتیں اور نوافل پورے اد اکرنا اگر آسان ہوسکتا ہے تو فرض نماز پوری ادا کرنے میں کیا مشکل ہوسکتی ہے؟ حضرت! شریعتِ محمدی اور قرآنِ پاک کی روشنی میں دلائل کے ساتھ جواب دے کر ہمیں ذہنی کوفت اور پریشانی سے نجات دِلائیں، اس سے بہتوں کا بھلا ہوگا۔
جواب:۔
آپ کے سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ بحری جہاز کا عملہ تمام تر سہولتوں کے باوجود مسافر ہے۔(۱) البتہ جہاز جب کسی شہر میں لنگرانداز ہو اور بندرگاہ شہر کا ایک حصہ تصوّر کی جاتی ہو اور اس جگہ پندرہ دن کا یا اس سے زیادہ رہنے کا ارادہ ہو تو پوری نماز ادا کی جائے گی۔(۲) آپ کا یہ ارشاد بجا ہے کہ: ’’سفر میں نماز قصر کا حکم دیا جانا سفر کی تکالیف اور مشکلات کی وجہ سے ہے۔‘‘ لیکن چونکہ سفر میں عموماً تکلیف و مشقت پیش آتی ہے، اس لئے شریعت نے قصر کا مدار مسافت پر رکھا ہے، ورنہ لوگوں کو یہ فیصلہ کرنے میں دُشواری پیش آتی کہ اس سفر میں تکلیف و مشقت ہے یا نہیں؟ خلاصہ یہ کہ حکم کی اصل علت تو تکلیف و مشقت ہی ہے، مگر اس کا کوئی پیمانہ مقرّر کرنا مشکل تھا، اس لئے شریعت نے اَحکام کا مدار خود تکالیف پر نہیں رکھا، بلکہ سفر پر رکھا، خواہ اس میں مشقت ہو یا نہ ہو، اس لئے آپ لوگوں کو نماز قصر ہی کرنی ہوگی۔ قصر صرف فرض رکعات میں ہوتی ہے، سنتوں اور نفلوں میں نہیں، کیونکہ سفر میں سنتیں، نفل کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں، اور ان کا پڑھنا اِختیاری امر بن جاتا ہے،(۳) تاہم اگر سفر میں فراغت و واطمینان ہو تو سنن و نوافل ضرور پڑھنے چاہئیں، مگر فرض نماز قصر ہی ہوگی، پوری پڑھنا جائز نہیں۔
عن عائشۃ اُمّ المؤمنین رضی اللہ عنھا قالت: فرض اللہ الصلاۃ حین رکعتین رکعتین فی الحضر والسفر، فاقرت صلاۃ السفر، وزید فی صلاۃ الحضر۔ (صحیح البخاری ج:۱ ص:۵۱، کتاب الصلاۃ، باب کیف فرضت الصلاۃ فی الْإسراء)۔ وقال عمران بن حصین: ما رأیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یصلی فی السفر إلّا رکعتین، وصلی بمکۃ رکعتین۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۲ ص:۹۳، باب صلاۃ المسافر)۔
- (۱) اور مسافر کو قصر نماز پڑھنے کا حکم ہے۔
- (۲) عن ابن عباس رضی اللہ عنھما قال: إن اللہ تعالٰی فرض الصلاۃ علٰی لسان نبیّکم علی المسافر رکعتین وعلی المقیم أربعًا وفی الخوف رکعۃً۔ (صحیح مسلم ج:۱ ص:۲۴۱)۔ أیضًا: ولَا یزال علی حکم السفر حتّٰی ینوی الْإقامۃ فی بلدۃ أو قریۃ خمسۃ عشر یومًا أو أکثر۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۱۳۹، صلاۃ المسافر)۔
- (۳) واحترز بالفرض عن السنن والوتر بالرباعی عن الفجر والمغرب ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۱ ص:۱۲۳)، ویأتی المسافر بالسنن إن کان فی حال أمن وقرار وإلّا بأن کان فی خوف وفرار لَا یأتی بھا ھو المختار ۔۔۔إلخ۔ (درمختار مع رد المحتار ج:۲ ص:۱۳۱، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، طبع سعید)۔

