مسافرکینماز
ہوائیجہازمیںنمازکاکیاحکمہے؟
سوال:۔
کیا ہوائی جہاز میں نماز پڑھنے سے نماز ادا ہوجاتی ہے؟
جواب:۔
ہوائی جہاز میں نماز اکثر علمائے کرام کے نزدیک صحیح ہوجاتی ہے، بشرطیکہ نماز کو اس کی تمام شرائطِ صحت کے ساتھ ادا کیا جائے، قبلہ رُخ اور دیگر شرائط میں نقص نہ رہ جائے۔(۱) بعض علماء فرماتے ہیں کہ ہوائی جہاز میں نماز ادا کرنے کے بعد زمین پر احتیاطاً اس کا اعادہ بھی کرلے تو بہتر ہے، ضروری اور واجب نہیں ہے۔
- (۱) الصلاۃ فی السفینۃ، ومثلھا الطائرۃ والسیارۃ: تجوز صلاۃ الفریضۃ فی السفینۃ والطائرۃ والسیارۃ قاعدًا ولو بلاعذر عند أبی حنیفۃ ولٰـکن بشرط الرکوع والسجود، وقال الصاحبان لَا تصح إلّا لعذر وھو الأظھر ۔۔۔إلخ۔ (الفقہ الْإسلامی وأدلّتہ ج:۲ ص:۴۴)۔ أیضًا: وأما الطیارات حالۃ طیرانھا فی جو السماء أو عند وقوفھا فی الفضاء فیصلی فیھا قائمًا برکوع وسجود مستقبلًا للقبلۃ عند القدرۃ علی القیام کما یمکن ذٰلک فی الطیارات الکبیرۃ ۔۔۔إلخ۔ (معارف السنن ج:۳ ص:۳۹۵، طبع مکتبۃ بنوریۃ)۔

