بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسافر‌کی‌نماز

کیا‌بس‌اور‌ہوائی‌جہاز‌میں‌نماز‌ادا‌کرنی‌چاہئے؟

سوال:۔

بس یا ہوائی جہاز کے سفر کے دوران اگر نماز کا وقت ہوجائے تو کیا بس یا ہوائی جہاز میں سفر کے دوران نماز ادا کرنا لازمی ہے؟ کیونکہ بس ڈرائیور تو عموماً بس کھڑی نہیں کرتے اور ہوائی جہاز کا معاملہ تو بالکل ہی مشکل معاملہ ہے، کیونکہ وہ تو انسان کے بس کی بات نہیں ہے، اس لئے بس یا ہوائی جہاز کے اندر نماز کس طرح ادا کی جائے؟ اور کیا ادا کرنا لازمی ہے؟

جواب:۔

نماز تو بس اور ہوائی جہاز کے سفر کے دوران بھی فرض ہے، قضا نہیں کرنی چاہئے۔ ہوائی جہاز کے اندر تو آدمی اطمینان سے نماز پڑھ سکتا ہے، البتہ بس میں نماز نہیں پڑھی جاسکتی،(۱) اس لئے یا تو بس ڈرائیور سے پہلے معاہدہ کرلیا جائے کہ وہ نماز پڑھانے کے لئے بس کھڑی کرے، ورنہ بس کا ٹکٹ ہی اتنی مسافت کا لیا جائے جہاں پہنچ کر نماز کا وقت آنے کی توقع ہو، نماز پڑھ کر دُوسری بس پکڑلی جائے۔

لَا یجوز لأحد أداء فریضۃ ۔۔۔ إلّا متوجھًا إلی القبلۃ ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۶۳، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث فی شروط الصلاۃ)۔ أیضًا: ومن أراد أن یصلی فی سیفنۃ فرضًا أو نفلًا فعلیہ أن یستقبل القبلۃ متی قدر علٰی ذالک، ولیس لہ أن یصلی إلٰی غیر جھتھا، حتّٰی دارت السفینۃ وھو یصلی وجب علیہ أن یدور إلٰی جھۃ القبلۃ حیث دارت ۔۔۔ ومحل کل ذالک إذا خاف خروج الوقت قبل أن تصل السفینۃ أو القاطرۃ إلی المکان الذی یصلی فیہ صلاۃ کاملۃ ولَا تجب علیہ الْإعادۃ ومثل السفینۃ القطر البخاریۃ البریۃ، والطائرات الجویۃ ونحوھا۔ (کتاب الفقہ علی المذاھب الأربعۃ ج:۱ ص:۱۹۷، طبع بیروت)۔

  1. (۱) کیونکہ نماز کے صحیح ہونے کے لئے قبلہ رُخ ہونا ضروری ہے اور بس میں یہ ممکن نہیں۔