بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسافر‌کی‌نماز

اِمام‌مسافر‌کے‌پیچھے‌بھی‌مقیم‌مقتدی‌کو‌جماعت‌کی‌فضیلت‌ملتی‌ہے

سوال:۔

میں دھوراجی میں ایک ادارے میں زیرِ تعلیم ہوں، اس ادارے کے قریب ہی ایک مسجد ہے، جہاں میں ظہر کی نماز ادا کرتا ہوں، کچھ عرصہ قبل میں حسبِ معمول نمازِ ظہر ادا کرنے مسجد ہذا میں پہنچا تو جماعت کھڑی ہوچکی تھی، وضو سے فارغ ہوا تو دُوسری رکعت جاری تھی، قریب تھا کہ جماعت میں شامل ہوتا، اِمام نے دو رکعت کے بعد سلام پھیر لیا۔ دریافت کرنے پر پتہ یہ چلا کہ مسجد میں ایک پیر صاحب آئے ہوئے ہیں جنہوں نے اِمامت کی، اعلان کیا گیا کیونکہ پیر صاحب سفر میں ہیں اس لئے انہوں نے چار فرض کے بجائے دو فرض پڑھائے، لہٰذا تمام نمازی چار رکعت فرض انفرادی طور پر دوبارہ ادا کریں۔ یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ پیر صاحب سفر کے دوران کراچی میں مختصر قیام پر ہیں، اس لئے انہوں نے دو فرض پڑھے، لیکن مسجد کے نمازی تو مقامی ہیں، دریافت یہ کرنا ہے کہ لوگ مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے جاتے ہیں جس کی بڑی تاکید بھی آئی ہے، ان کی جماعتوں کی نماز ایک مسافر پیر سے اِمامت کراکے ضائع کرادینا اور جماعت کی نماز کے فضائل سے محروم کردینا قرآن و سنت کی رُو سے کیا جائز ہے؟ نیز جماعت سے نماز نہ ادا کرنے کا وبال کس پر ہوگا، نمازی پر، پیر صاحب پر، یا مسجد کے منتظمین پر؟ میں اس کے بعد وہاں مسجد میں نماز پڑھنے نہیں گیا، بعد میں پتہ چلا کہ تین چار روز تک پانچوں وقت کی نمازیں پیر صاحب نے اسی طرح پڑھائیں۔ برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب سے نوازیں، اس سے بہت شک و شبہات ختم ہوں گے۔

جواب:۔

اگر اِمام مسافر ہو تو وہ دو رکعت کے بعد سلام پھیر دے گا، اور اس کے پیچھے جو مقتدی مقیم ہیں، وہ اُٹھ کر اپنی دو رکعتیں پوری کرلیں گے،(۱) مقتدیوں کو چار فرض انفرادی طور پر ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔ اور مسافر کی اِمامت سے اس کی اِقتدا کرنے والے مقیم مقتدیوں کو بھی جماعت کا ثواب پورا ملتا ہے، اس لئے آپ کا یہ سوال ہی بے محل ہے کہ جماعت سے نماز نہ پڑھنے کا وبال کس پر ہوگا؟ کیونکہ نماز جماعت کے ساتھ پڑھی گئی، اس لئے ترکِ جماعت کے وبال کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ البتہ جو مقتدی اپنی سستی کی وجہ سے آپ کی طرح دیر سے آئے اور جماعت سے محروم رہے، ان کا وبال خود انہی کی سستی پر ہے، اور آپ کا آئندہ کے لئے اس مسجد میں جانا ہی بند کردینا بھی غلط تھا۔

  1. (۱) وصح إقتداء المقیم بالمسافر فی الوقت فإذا قام أی بعد سلام الْإمام إلی الْإتمام لَا یقرأ۔ (درمختار ج:۲ ص:۱۲۹، باب صلاۃ المسافر)۔ أیضًا: وإن صلّی المسافر بالمقیمین رکعتین سلم وأتم المقیمون صلاتھم وصاروا منفردین کالمسبوق إلّا أنھم لَا یقرؤن فی الأصح ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۴۲، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر فی صلاۃ المسافر)۔