بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسافر‌کی‌نماز

منیٰ‌میں‌قصر‌نماز

سوال:۔

کوئی شخص پاکستان سے یا دُوسرے ممالک سے حج یا عمرے کے لئے جاتا ہے تو مکہ شریف میں پندرہ سے زیادہ ایام رہنے کے بعد اِحرامِ حج باندھ کر منیٰ و عرفات کو جاتا ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ منیٰ و عرفات و مزدلفہ میں نمازیں قصر پڑھے یا پوری پڑھے؟ بعض حضرات کہتے ہیں کہ قصر پڑھے، کیونکہ نبی علیہ السلام نے مکہ میں مقیم ہونے کے باوجود نماز قصر پڑھی۔ اگر حنفی مسلک رکھنے والے نے قصر پڑھی ہو تو اس کی نمازیں ہوگئیں یا دوبارہ قضا کرے؟

جواب:۔

قصر کا حکم صرف مسافر کو ہے، (۱)اور جو شخص منیٰ جانے سے پہلے مقیم ہو، خواہ اس وجہ سے کہ وہ مکہ مکرّمہ کا رہنے والا ہے، خواہ اس وجہ سے کہ وہ پندرہ دن یا اس سے زیادہ عرصے سے مکہ مکرّمہ میں ٹھہرا ہوا تھا، اس کو منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں قصر کی اجازت نہیں، وہ پوری نماز پڑھے اور اگر قصر کرچکا ہے تو وہ نمازیں نہیں ہوئیں، ان کو دوبارہ پڑھے۔

خلاصہ یہ کہ جو حاجی صاحبان ایسے وقت مکہ مکرّمہ جاتے ہیں کہ ۸؍تاریخ (جو منیٰ جانے کا دن ہے) تک مکہ مکرّمہ میں ان کے پندرہ دن نہیں ہوتے وہ مکہ مکرّمہ میں بھی مسافر شمار ہوں گے اور منیٰ، عرفات میں بھی، لہٰذا قصر کریں گے۔(۲) اور اگر ۸؍تاریخ تک مکہ مکرّمہ میں ان کے پندرہ دن پورے ہوجاتے ہیں تو وہ مکہ مکرّمہ میں مقیم ہوجائیں گے اور منیٰ، عرفات میں بھی مقیم رہیں گے۔

  1. (۱) فإذا قصد بلدۃ مسیرۃ ثلاثۃ أیام ولیالیھا کان مسافرًا عندنا ۔۔۔ ولو نوی الْإقامۃ خمسۃ عشر یومًا فی فی موضعین فإن کان کل منھما أصلًا بنفسہٖ نحو مکۃ ومنٰی ۔۔۔ لَا یصیر مقیمًا ۔۔۔ ذکر فی کتاب المناسک أن الحاج إذا دخل مکۃ فی أیام العشر ونوی الْإقامۃ نصف شھر لَا تصح لأنہ لَا بُدَّ لہ من الخروج إلی العرفات فلا یتحقق الشرط۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۳۸-۱۴۰، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر فی صلاۃ المسافر)۔
  2. (۲) فإذا قصد بلدۃ مسیرۃ ثلاثۃ أیام ولیالیھا کان مسافرًا عندنا ۔۔۔ ولو نوی الْإقامۃ خمسۃ عشر یومًا فی فی موضعین فإن کان کل منھما أصلًا بنفسہٖ نحو مکۃ ومنٰی ۔۔۔ لَا یصیر مقیمًا ۔۔۔ ذکر فی کتاب المناسک أن الحاج إذا دخل مکۃ فی أیام العشر ونوی الْإقامۃ نصف شھر لَا تصح لأنہ لَا بُدَّ لہ من الخروج إلی العرفات فلا یتحقق الشرط۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۳۸-۱۴۰، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر فی صلاۃ المسافر)۔