بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسافر‌کی‌نماز

حاجی‌مکہ‌میں‌مقیم‌ہوگا‌یا‌مسافر؟

سوال:۔

حاجی مکہ میں مسافر ہوگا یا مقیم؟ جبکہ وہ پندرہ دن قیام کی نیت کرے مگر اس قیام کے دوران وہ منیٰ، عرفات بھی پانچ دن کے لئے جائے اور آئے، ایسی صورت میں وہ مقیم ہوگا یا مسافر؟ اور منیٰ اور مکہ مکرمہ شہر واحد کے حکم میں ہیں یا دو الگ الگ شہر؟

جواب:۔

مکہ، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ الگ الگ مقامات ہیں، ان میں مجموعی طور پر پندرہ دن رہنے کی نیت سے آدمی مقیم نہیں ہوتا، پس جو شخص ۸؍ذُوالحجہ کو منیٰ جانے سے پندرہ دن پہلے مکہ مکرمہ آگیا تو وہ مکہ مکرمہ میں مقیم ہوگیا، اب وہ منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں بھی مقیم ہوگا اور پوری نماز پڑھے گا۔ لیکن اگر مکہ مکرمہ آئے ہوئے ابھی پندرہ دن پورے نہیں ہوئے تھے کہ منیٰ کو روانگی ہوگئی تو یہ شخص مکہ مکرمہ میں بھی مسافر ہوگا اور منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں بھی قصر نماز پڑھے گا۔ تیرہویں تاریخ کو منیٰ سے واپسی کے بعد اگر اس کا اِرادہ پندرہ دن مکہ مکرمہ میں رہنے کا ہے تو اب یہ شخص مکہ مکرمہ میں مقیم بن جائے گا، لیکن اگر منیٰ سے واپسی کے بعد بھی مکہ مکرمہ میں پندرہ دن رہنے کا موقع نہیں تو یہ شخص بدستور مسافر ہی رہے گا۔(۱)

  1. (۱) افإذا قصد بلدۃ مسیرۃ ثلاثۃ أیام ولیالیھا کان مسافرًا عندنا ۔۔۔ ولو نوی الْإقامۃ خمسۃ عشر یومًا فی فی موضعین فإن کان کل منھما أصلًا بنفسہٖ نحو مکۃ ومنٰی ۔۔۔ لَا یصیر مقیمًا ۔۔۔ ذکر فی کتاب المناسک أن الحاج إذا دخل مکۃ فی أیام العشر ونوی الْإقامۃ نصف شھر لَا تصح لأنہ لَا بُدَّ لہ من الخروج إلی العرفات فلا یتحقق الشرط۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۳۸-۱۴۰، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر فی صلاۃ المسافر)۔