مسافرکینماز
سفرِحجمیںنمازقصرپڑھیںگےیاپوری؟
سوال:۔
۱۹۷۹ء میں ہم حج کے لئے مکہ معظمہ گئے تھے، اور وہاں ہم نے تین ماہ قیام کیا، اور سفر ہم نے بحری جہاز کے ذریعے کیا، اور جہاز میں ہم نے فرض نمازوں کو قصر نہیں پڑھا، اور نہ ہم نے نمازیں مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور عرفات کے میدان میں قصر پڑھیں۔ لہٰذا پوچھنا یہ ہے کہ ہمیں سفر کے دوران اور مکہ معظمہ، مدینہ منورہ اور عرفات کے میدان میں فرض نمازیں قصر کرکے پڑھنا تھیں یا پوری فرض نماز پڑھنا تھی؟
جواب:۔
جہاز میں تو آپ مسافر تھے، قصر نمازیں پڑھنی تھیں،(۱) اور مکہ مکرمہ اگر آپ اس وقت پہنچے کہ حج کے لئے منیٰ عرفات جانے میں پندرہ دن سے کم کا فاصلہ تھا، تو اتنے دن آپ کو مکہ مکرمہ میں بھی قصر کرنا چاہئے تھا۔(۲) حج سے فارغ ہوکر جب آپ مکہ مکرمہ واپس آگئے اور وہاں پندرہ دن کا قیام طے تھا تو آپ مقیم ہوگئے،(۳) پوری نماز پڑھنی چاہئے تھی۔ مکہ مکرمہ سے آپ مدینہ منورہ گئے تو راستے میں پھر آپ مسافر تھے، اور مدینہ شریف پہنچ کر اگر وہاں پندرہ دن قیام کرنا ہے تو آپ وہاں مقیم ہوگئے، ورنہ مسافر رہے۔
- (۱) الأصل ان کل صلاۃ ثبت وجوبھا فی الوقت وفاتت عن وقتھا أنہ یعتبر فی کیفیۃ قضائھا وقت الوجوب وتقضی علی الصفۃ اللتی فاتت عن وقتھا ۔۔۔إلخ۔ (بدائع الصنائع ج:۱ ص:۵۷۲، ۵۶۳، کتاب الصلاۃ)۔
- (۲) فإذا قصد بلدۃ مسیرۃ ثلاثۃ أیام ولیالیھا کان مسافرًا عندنا ۔۔۔ ولو نوی الْإقامۃ خمسۃ عشر یومًا فی فی موضعین فإن کان کل منھما أصلًا بنفسہٖ نحو مکۃ ومنٰی ۔۔۔ لَا یصیر مقیمًا ۔۔۔ ذکر فی کتاب المناسک أن الحاج إذا دخل مکۃ فی أیام العشر ونوی الْإقامۃ نصف شھر لَا تصح لأنہ لَا بُدَّ لہ من الخروج إلی العرفات فلا یتحقق الشرط۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۳۸-۱۴۰، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر فی صلاۃ المسافر)۔
- (۳) ولَا یزال علٰی حکم السفر حتی ینو الْإقامۃ فی بلدۃ أو قریۃ خمسۃ عشر یومًا أو أکثر۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۳۹، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر فی صلاۃ المسافر)۔

