بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسافر‌کی‌نماز

مختلف‌علاقوں‌اور‌کچھ‌دن‌سات‌میل‌دُور‌دیہات‌میں‌گزارنے‌والی‌تبلیغی‌جماعت‌پوری‌نماز‌پڑھے‌گی

سوال:۔

جیسا کہ ۸؍ذوالحجہ سے ۱۵ یوم پہلے پہنچنے والوں پر مکہ مکرمہ، منیٰ، مزدلفہ، عرفات میں مقیم ہونے کی وجہ سے پوری نماز ہے، تابع ہونے کی وجہ سے، جبکہ عرفات مکہ سے تقریباً ۹میل دُور ہے، تو اسی طرح اگر تبلیغی جماعت کے احباب کراچی شہر میں پندرہ یوم سے زیادہ مختلف علاقوں اور پھر ایک ہفتہ اسی اثنا میں ۷میل دُور ایک دیہات میں گزاریں، یا شہر سے دو میل دُور کسی دیہات میں گزاریں اور مقامی نماز کسی مسجد میں کسی وجہ سے اگر نہ مل سکے تو یہ حضرات اس دوران پندرہ یوم سے زیادہ مختلف جگہوں میں شہر اور دیہات کے علاقوں میں نماز پوری پڑھیں یا قصر کریں؟

جواب:۔

منیٰ، عرفات، مزدلفہ اور مکہ مکرمہ چاروں الگ الگ جگہیں ہیں، حاجیوں کو ان چار جگہوں میں گھومنا ہوتا ہے، اگر مجموعی طور پر ان کی اِقامت کی مدّت پندرہ دن ہوتی ہے تو مسافر ہوں گے۔ ہاں منیٰ جانے سے پہلے یا منیٰ سے واپس آنے کے بعد اگر ان کی مکہ مکرمہ میں رہائش کی مدّت پندرہ دن ہو تو وہ مقیم ہوں گے۔

جو لوگ کراچی کی جماعت کے لئے آتے ہیں، اگر ان کی تشکیل کراچی کی حدود میں ہو اور پندرہ دن کے لئے ان کو کراچی کی حدود میں رہنا ہو تو وہ یہاں مقیم ہوں گے، اور اس کے بعد اگر انہیں کراچی سے باہر جانا ہے تو اس صورت میں مسافر ہوں گے، جبکہ ۴۸میل سے زیادہ مسافت پر جائیں، اور اگر کراچی سے باہر دو چار میل کے لئے جاتے ہیں اور ان کو پھر کراچی میں واپس آجانا ہے، تو وہ مقیم ہی ہوں گے۔ ہاں اگر وہ کراچی سے باہر جاتے ہیں اور ان کی سفر کی مسافت ۴۸میل سے زیادہ ہے، تو وہ کراچی سے نکلنے کے بعد مسافر ہوجائیں گے، خواہ دو چار میل کی قریبی بستی میں جاکر رات گزاریں۔ واللہ اعلم!(۱)

  1. (۱) فإذا قصد بلدۃ مسیرۃ ثلاثۃ أیام ولیالیھا کان مسافرًا عندنا ۔۔۔ ولو نوی الْإقامۃ خمسۃ عشر یومًا فی فی موضعین فإن کان کل منھما أصلًا بنفسہٖ نحو مکۃ ومنٰی ۔۔۔ لَا یصیر مقیمًا ۔۔۔ ذکر فی کتاب المناسک أن الحاج إذا دخل مکۃ فی أیام العشر ونوی الْإقامۃ نصف شھر لَا تصح لأنہ لَا بُدَّ لہ من الخروج إلی العرفات فلا یتحقق الشرط۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۳۸-۱۴۰، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر فی صلاۃ المسافر)۔