مسافرکینماز
ہاسٹلمیںرہنےوالاطالبِعلمکتنینمازوہاںپڑھےاورکتنیگھرپر؟
سوال:۔
میں مہران یونیورسٹی جامشورو میں پڑھتا ہوں، میرا گاؤں یہاں سے ۴۹ میل دُور ہے، اور میں ہاسٹل میں رہتا ہوں، اور ہر جمعرات کو گاؤں جاتا ہوں، یوں میرا گاؤں سے دُور پندرہ دن سے کم دن کا قیام ہے، سوال یہ ہے کہ مجھے سفری نماز پڑھنی چاہئے یا پوری؟ نیز یہ کہ گاؤں میں صرف ایک رات رہتا ہوں ہفتے میں۔
جواب:۔
اگر آپ ایک بار ہاسٹل میں پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کرلیں تو ہاسٹل آپ کا ’’وطنِ اِقامت‘‘ بن جائے گا، اور جب تک آپ طالبِ علم کی حیثیت سے وہاں مقیم ہیں، وہاں پوری نماز پڑھیں گے۔ اور اگر آپ نے ایک بار بھی وہاں پندرہ دن کا قیام نہیں کیا تو آپ وہاں مسافر ہیں، اور قصر پڑھیں گے، اور گھر پر تو آپ ہر حال میں پوری نماز پڑھیں گے، خواہ ایک گھنٹے کے لئے آئے ہوں۔(۱)
- (۱) ولَا یزال علٰی حکم السفر حتّٰی ینوی الْإقامۃ فی بلدۃ أو قریۃ خمسۃ عشرۃ یومًا أو أکثر۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۱۳۹، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر فی صلاۃ المسافر)۔ أیضًا: ووطن الْإقامۃ وھو أن یقصد الْإنسان أن یمکث فی موضع صالح للإقامۃ خمسۃ عشرۃ یومًا أو أکثر۔ (بدائع الصنائع ج:۱ ص:۱۰۳)۔

