بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسافر‌کی‌نماز

مسافر‌مختلف‌قریب‌قریب‌جگہوں‌پر‌رہے‌تب‌بھی‌قصر‌کرے

سوال:۔

(الف) زید کراچی سے پشاور گیا، اور پشاور میں پچّیس دن رہنے کا ارادہ ہے، مگر مختلف مقامات پر دو تین دن رہنا ہے، لیکن جن مختلف مقامات پر رہتا ہے، وہ قریب قریب ہیں، ایک فرلانگ یا آدھا فرلانگ دُور دُور مختلف دیہات میں، کیا وہ نماز پوری پڑھے گا؟

سوال:۔

(ب) عمرو پشاور سے کراچی آیا، اور پندرہ دن سے زائد کراچی میں رہتا ہے، مگر دو دن ناظم آباد، تین دن ٹاور میں، تین دن کیماڑی میں یا اس سے بھی تھوڑا دُور یا اس سے بھی قریب قریب مقامات پر رہتا ہے، کیا پوری نماز پڑھے گا؟

جواب:۔

مسافر جب ایک معین مقام (شہر یا گاؤں) میں پندرہ دن یا اس سے زیادہ رہنے کی نیت کرلے تو وہ مقیم ہوجاتا ہے، اور اس کے ذمہ پوری نماز پڑھنا ضروری ہے، اور اگر ایک جگہ رہنے کی نیت نہیں تو وہ بدستور مسافر رہے گا،(۱) اور نماز کی قصر کرے گا،(۲) پس سوال میں ذکر کردہ پہلی صورت میں وہ مسافر ہے، کیونکہ اس کی نیت ایک جگہ رہنے کی نہیں، بلکہ مختلف جگہوں پر رہنے کی ہے، گو ان جگہوں میں زیادہ فاصلہ نہیں، اور دُوسری صورت میں وہ مقیم ہوگا، کیونکہ کراچی کا پورا شہر ایک ہی ہے، اس کے مختلف محلوں یا علاقوں میں رہنے کے باوجود وہ ایک ہی شہر میں ہے۔

  1. (۱) ولَا یزال علٰی حکم السفر حتی ینوی الْإقامۃ فی بلدۃ أو قریۃ خمسۃ عشر یومًا أو أکثر۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۳۹، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر فی صلاۃ المسافر، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔
  2. (۲) ولو نوی الْإقامۃ خمسۃ عشر یومًا فی موضعین فإن کان کل منھما أصلًا بنفسہ نحو مکۃ ومنٰی والکوفۃ والحمیرۃ لَا یصیر مقیمًا ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۴۰، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر فی صلاۃ المسافر)۔