بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسافر‌کی‌نماز

بیک‌وقت‌دو‌شہروں‌میں‌مقیم‌کس‌طرح‌قصر‌نماز‌پڑھے؟

سوال:۔

میری مستقل رہائش سمندری میں ہے، جو فیصل آباد سے ۳۰ میل پر ہے، فیصل آباد میں مستقل ملازمت کرتا ہوں اور بوجہ ملازمت فیصل آباد کو ہی وطنِ سکونت سمجھتا ہوں، دورانِ سفر قصر نماز کے لئے کس شہر کو پیشِ نظر رکھنا ہوگا، مستقل خاندانی رہائش کو یا جہاں ملازمت کرتا ہوں؟

جواب:۔

دونوں کا اعتبار ہوگا، جس شہر سے آپ سفر شروع کریں گے وہاں کا بھی، اور دُوسرے کا بھی، مثال کے طور پر آپ فیصل آباد سے سرگودھا کی طرف سفر کر رہے ہیں تو وہ جگہ فیصل آباد سے ۴۸ میل یا زیادہ کی مسافت پر ہونی چاہئے، تب آپ مسافر ہوں گے۔ اور اگر آپ فیصل آباد سے ٹوبہ یا گوجرہ کی طرف سفر شروع کریں تو سمندری آتے ہی آپ مقیم ہوجائیں گے، اب آگے کی جگہ اگر سمندری سے ۴۸میل ہو تو آپ مسافر ہوں گے، ورنہ نہیں۔ اسی طرح اگر آپ کو سمندری سے سرگودھا کی طرف جانا ہے، راستے میں فیصل آباد آتا ہے، آپ وہاں پہنچتے ہی مقیم ہوجائیں گے، اب اس سے آگے کی مسافت ۴۸ میل ہو تو مسافر ہوں گے، ورنہ نہیں۔(۱)

  1. (۱) ولَا بد للمسافر من قصد مسافۃ مقدرۃ بثلاثۃ أیام حتّٰی یترخص برخصۃ المسافرین وإلّا لَا یترخص أبدًا۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۱۳۹ الباب الخامس عشر فی صلاۃ المسافر، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔ أیضًا: وتعتبر المدۃ من أیّ طریق أخذ فیہ، کذا فی البحر الرائق۔ (أیضًا ج:۱ ص:۱۳۸، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔