بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسافر‌کی‌نماز

رہائش‌کہیں‌اور‌ہو‌اور‌والدین‌کو‌ملنے‌آئیں‌تو‌کون‌سی‌نماز‌پڑھیں؟

سوال:۔

مسئلہ قصر نماز کا ہے، میرے والدین یہاں چکوال میں رہتے ہیں، لیکن میں کسی وجہ سے کوئٹہ (بلوچستان) میں اپنے بڑے بھائی کے ہاں مقیم ہوں، اب اگر میں ایک ہفتے یا دَس دِن کے لئے اپنے والدین کے پاس آؤں تو کیا قصر نمازیں پڑھوں؟

جواب:۔

اگر آپ نے کوئٹہ میں مستقل رہائش اِختیار کرلی ہے اور چکوال کو اپنا وطن نہیں سمجھتیں، تو آپ چکوال میں قصر نماز پڑھیں، بشرطیکہ وہاں پندرہ دِن رہنے کی نیت نہ ہو۔(۱)

  1. (۱) الوطن الأصلی یبطل بمثلہ فلو کان لہ أبوان ببلد غیر مولدہ وھو بالغ ولم یتأھل بہ فلیس ذٰلک وطنًا لہ إلّا إذا عزم علی القرار فیہ وترک الوطن الذی کان قبلہ۔ (شامی ج:۲ ص:۱۳۳ باب صلاۃ المسافر)۔ أیضًا: والوطن الأصلی ھو وطن الْإنسان فی بلدۃ أو بلدۃ أخریٰ إتخذھا دارًا، أو توطن بھا مع أھلہ وولدہ ولیس من قصدہ الْإرتحال عنھا، بل التعیش بھا، وھٰذا الوطن یبطل بمثلہ لَا غیر، وھو أن یتوطن فی بلدۃ أخریٰ وینتقل الأھل إلیھا، فیخرج الأوّل من یکون وطنًا أصلیًّا حتّٰی لو دخل مسافرًا لَا یتم قیدنا بکونہ إنتقل عن الأوّل بأھلہ، لأنہ لو لم ینتقل بھم، ولٰـکنہ استحدث أھلًا فی بلدۃ أخریٰ، فإن الأوّل لم یبطل، ویتم فیھا۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۱۴۷، باب المسافر، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔