مسافرکینماز
جسشہرمیںمکانکرایہکاہو،چاہےاپنا،وہاںپہنچتےہیمسافرمقیمبنجاتاہے
سوال:۔
ہمارا ایک مستقل گھر صوبہ سرحد میں ہے، اور ایک مستقل ٹھکانا کراچی میں، اور اگر ہم سرحد سے کراچی کسی کام کے لئے آئیں اور کراچی میں پندرہ دن سے کم رہنے کا ارادہ ہو تو کیا نماز قصر پڑھنی ہوگی یا پوری؟ (الف) جب مکان کرائے کا ہو، (ب) جب مکان اپنا ہو؟
جواب:۔
کراچی آپ کا وطنِ اِقامت ہے، جب تک آپ کا کراچی میں رہنے کا ارادہ ہے اور وہاں رہنے کے لئے کرائے کا مکان لے رکھا ہے، اس وقت تک آپ کراچی آتے ہی مقیم ہوجائیں گے، اور آپ کے لئے پندرہ دن یہاں رہنے کی نیت کرنا ضروری نہیں ہوگا، اس صورت میں آپ یہاں پوری نماز پڑھیں گے، اور جب آپ کراچی کی سکونت ختم کرکے یہاں سے اپنا سامان منتقل کرلیں گے اور کرائے کا مکان بھی چھوڑ دیں گے، اس وقت کراچی آپ کا وطنِ اِقامت نہیں رہے گا، پھر اگر کبھی کراچی آنا ہوگا تو اگر پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت ہوگی تو آپ یہاں مقیم ہوں گے، اور اگر ۱۵ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت ہوگی تو مسافر ہوں گے۔
خلاصہ یہ کہ جب تک یہاں آپ کا کرائے کا مکان ہے، اور جب تک یہاں آپ کا سامان رکھا ہے، اور آپ کی نیت یہ ہے کہ آپ کو واپس آکر یہاں رہنا ہے، اس وقت تک یہ آپ کا وطنِ اِقامت ہے۔(۱)
- (۱) الوطن الأصلی ھو موطن ولَادتہ أو تأھلہ أو توطنہ یبطل بمثلہ إذا لم یبق لہ بالأوّل أھل فلو بقی لم یبطل بل یتم فیھما أی بمجرد الدخول وإن لم ینو إقامۃ ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۲ ص:۱۳۲ باب صلاۃ المسافر)۔

