بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسافر‌کی‌نماز

جہاں‌انسان‌کی‌جائیداد‌و‌مکان‌نہ‌ہو،‌وہ‌وطنِ‌اصلی‌نہیں‌ہے

سوال:۔

میرا آبائی گاؤں حیدرآباد سے ۱۵۰ میل دُور ہے، گاؤں میں میرے دو بھائی اور برادری کے دُوسرے لوگ اب بھی رہتے ہیں، برادری کا قبرستان بھی اسی گاؤں میں ہے۔ میری سرکاری ملازمت زیادہ تر حیدرآباد میں رہی ہے، بچوں کی تعلیم بھی زیادہ تر حیدرآباد میں ہی ہوئی ہے، ایک دو بچے اب بھی حیدرآباد میں ہی پڑھتے ہیں، بلکہ ایک دو بچوں کی ملازمت بھی حیدرآباد میں ہی ہے۔

درحقیقت ملازمت کے زمانے ہی میں، میں نے اپنی کوٹھی حیدرآباد میں بنوائی ہے، اور پنشن لینے کے بعد اپنی رہائش حیدرآباد ہی میں قائم رکھی ہے، بلکہ زرعی زمین بھی پنشن لینے کے بعد حیدرآباد کے نزدیک خریدی ہے، مطلب یہ کہ مستقل سکونت ایک طرح سے حیدرآباد میں اختیار کر رکھی ہے۔ شادی، غمی اور برادری کے معاملات میں گاؤں سے تعلق قائم رکھا ہے اور اکثر گاؤں آنا جانا رہتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ (الف) اگر میں یا میری اولاد میں سے کوئی گاؤں جائیں تو گاؤں میں یا آتے جاتے راستے میں کون سی نماز پڑھیں، قصر یا پوری؟ (ب) اگر گاؤں میں پوری نماز پڑھنی ہے اور گاؤں سے اِردگرد ۵۰۰ میل کے اندر آنا جانا پڑے تو ادھر کون سی نماز پڑھیں قصر یا پوری؟

جواب:۔

آپ کا گاؤں چونکہ حیدرآباد سے ۱۵۰ میل کے فاصلے پر ہے، اس لئے وہاں آتے جاتے ہوئے راستے میں تو قصر ہی ہوگی، اصل سوال یہ ہے کہ گاؤں پہنچ کر آپ وہاں مسافر ہوں گے یا مقیم؟ اور وہاں قصر کریں گے یا پوری نماز ادا کریں گے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ آپ نے وہاں کی سکونت ترک کردی ہے، وہاں نہ آپ کا مکان ہے، اور نہ سامان، اس لئے وہ آپ کا وطنِ اصلی نہیں رہا، آپ وہاں مسافر ہوں گے اور قصر کریں گے۔(۱)

  1. (۱) ویبطل الوطن الأصلی بالوطن الأصلی إذا انتقل عن الأوّل بأھلہ ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۴۲ صلاۃ المسافر)۔