بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسافر‌کی‌نماز

شہر‌کا‌ایک‌قریبی‌راستہ‌ہو،‌دُوسرا‌دُور‌کا‌تو‌قصر‌کے‌لئے‌مسافت‌کا‌اِعتبار‌ہوگا

سوال:۔

گاؤں خرم زئی اور کوئٹہ کے درمیان دو راستے ہیں، ایک راستہ ۷۸ کلومیٹر کے فاصلے کا ہے، جبکہ دُوسرا راستہ ۴۵ یا ۵۰کلومیٹر کے فاصلے کا ہے، ہم جب ۷۸ کلومیٹر کے فاصلے سے سفر کرتے ہیں تو نماز قصر پڑھتے ہیں، جب ہم ۴۵ یا ۵۰ کلومیٹر کے فاصلے سے سفر کرتے ہیں تو ہمیں پوری نماز پڑھنی چاہئے یا قصر؟

جواب:۔

جس راستے سے جانا ہو، اس کا اِعتبار ہے، اگر وہ مسافتِ سفر ہو تو قصر کرے، نہ ہو تو نہ کرے۔(۱)

  1. (۱) فإذا قصد بلدۃ وإلٰی مقصدہ طریقان أحدھما مسیرۃ ثلاثۃ أیام ولیالیھا، والآخر دونھا، فسلک الطریق الأبعد کان مسافرًا عندنا وإن سلک الأقصر یتم کذا فی البحر الرائق۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۳۸، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر فی صلاۃ المسافر)۔