مسافرکینماز
دورانِسفرنمازیںمؤخرکرکےمنزلپراِطمینانسےپڑھنا
سوال:۔
کیا دورانِ سفر نمازوں کو مؤخر کرکے منزل پر پہنچ کر بہ اِطمینان تمام کو ملاکر پڑھنا دُرست ہے؟
جواب:۔
یہ جائز نہیں، بلکہ سفر کی نماز سفر ہی میں پڑھنی چاہئے،(۱) اگر پانی نہ ملے تو تیمم کرے۔(۲)
- (۱) عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ: والذی لَا إلٰہ إلّا غیرہ! ما صلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ قط إلّا وقتھا ۔۔۔إلخ۔ (أدلۃ الحنفیۃ ص:۱۱۹، باب لَا یجمع بین الصلاتین)۔ أیضًا عن عبداللہ قال: ما رأیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم صلّٰی صلاۃ لغیر میقاتھا ۔۔۔إلخ۔ (بخاری ج:۱ ص:۲۲۸، کتاب المناسک، باب متٰی یصلی الفحر بجمعٍ، أیضًا: صحیح مسلم، کتاب الحج، طبع قدیمی)۔
- (۲) ﵟ وَإِن كُنتُمۡ جُنُبٗا فَٱطَّهَّرُواْۚ وَإِن كُنتُم مَّرۡضَىٰٓ أَوۡ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوۡ جَآءَ أَحَدٞ مِّنكُم مِّنَ ٱلۡغَآئِطِ أَوۡ لَٰمَسۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُواْ مَآءٗ فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدٗا طَيِّبٗا فَٱمۡسَحُواْ بِوُجُوهِكُمۡ وَأَيۡدِيكُم مِّنۡهُۚ ﵞ المائدة ٦۔ أیضًا: ومن عجز عن إستعمالہ لبعدہ میلًا ۔۔۔ تیمم لھٰذہ الأعذار کلھا۔ (ردالمحتار ج:۱ ص:۲۳۲، ۲۳۶ باب التیمم)۔

