مسافرکینماز
قصرنمازکےلئےسفرکیحدکتنیہے؟
سوال:۔
سفر کی مقرّرہ حد کتنی ہے جس کے بعد سفر کی نماز قصر پڑھی جاتی ہے، یعنی چار فرض کی جگہ دو فرض پڑھے جاتے ہیں؟ اور اگر سفر نماز باجماعت پڑھی جائے تو کتنے فرض پڑھے جاتے ہیں؟ سفر کی نماز میں پوری رکعتیں یعنی پوری نماز پڑھی جائے یا صرف فرض پڑھے جائیں؟ کتنے دنوں کا قیام ہو تو تب تک پوری نماز نہ پڑھی جائے؟ اس بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب:۔
سفر کی نماز اَڑتالیس (۴۸) میل پر ہوتی ہے، یعنی آدمی اپنی بستی کو چھوڑ دے اور اَڑتالیس میل کا اِرادہ ہو تو قصر ہے۔(۱) سفر میں اگر جماعت کی نماز پڑھائی جائے تو قصر ہی ہوگی۔ البتہ اگر نماز پڑھانے والا مقیم ہو تو اس کے پیچھے مسافر کو بھی پوری نماز پڑھنی پڑے گی۔(۲)
- (۱) من خرج من عمارۃ موضع إقامتہ قاصدًا مسیرۃ ثلاثۃ أیام ولیالیھا بالسیر الوسط مع الْإستراحات المعتادۃ من أقصر أیام السنۃ ۔۔۔ صلی الفرض الرباعی رکعتین حتّٰی یدخل موضع مقامہ۔ (درمختار ج:۲ ص:۱۲۱ باب صلاۃ المسافر، أیضا فتاویٰ قاضیخان ج:۱ ص:۱۶۴، باب صلاۃ المسافر)۔
- (۲) وإن اقتدی مسافر بمقیم أتم أربعًا ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۴۲، الباب الخامس عشر فی صلاۃ المسافر)۔ أیضًا: وأما إقتداء المسافر بالمقیم فی الوقت أتم أربعًا۔ (الھدایۃ ج:۱ ص:۱۶۶، باب صلاۃ المسافر، طبع شرکت علمیۃ)۔

