سجدۂسہو
الحمدکیجگہالتحیاتپڑھکرنمازپوریکی،وترپڑھتےہوئےیادآنےپردووترپرسلامپھیردیاتوکیاسجدۂسہوسےنمازہوجائےگی؟
سوال:۔
میں سفر میں تھا، میں نے عشاء کی نماز قصر پڑھی، پھر دو رکعت سنت پڑھنا شروع کی، دُوسری رکعت میں بجائے الحمد کے التحیات کی دُعا پڑھتے ہوئے یاد آیا کہ یہ تو غلطی ہوئی، سوچا نماز پوری کرلوں، پھر سجدۂ سہو کرلوں گا، لیکن سجدۂ سہو بھی بھول گیا، نماز پوری کرلی پھر تین رکعت وتر پڑھنی شروع کی، دُوسری رکعت میں یاد آیا کہ سنت میں سجدۂ سہو رہ گیا تھا، اس لئے وہ نماز کالعدم ہوئی، لہٰذا اس وتر کی دو رکعت کے بعد سلام پھیردیا کہ یہ دو رکعت سنت کا بدل ہوجائے، اس کے بعد اَزسرِنو تین رکعت وتر پوری کی۔ سوال یہ ہے کہ اگر میں سنت میں دُوسری رکعت کے قعدے میں سجدۂ سہو کرلیتا تو کیا نماز ہوجاتی؟ یا الحمد نہ پڑھنے سے نماز سجدۂ سہو کے باوجود صحیح نہ ہوتی؟ دُوسرا سوال یہ ہے کہ میں نے جو عین نماز کے دوران وتر میں اس کو دو رکعت سنت میں تبدیل کردیا، وہ دُرست ہوا یا غلط؟
جواب:۔
نماز سنت (اور نفل) کی تمام رکعتوں میں قراءت فرض ہے، اگر آپ نے بھول کر التحیات شروع کردی، پھر یاد آنے پر سورۂ فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی اور سورۃ پڑھ کر رُکوع کیا، تو سجدۂ سہو کئے بغیر آپ کی نماز صحیح ہوگئی، آپ پر سجدۂ سہو کرنا واجب نہیں۔(۱) اور اگر آپ التحیات پڑھ کر رُکوع میں چلے گئے، قراء ت چھوڑ دی، تو آپ کی نماز صحیح نہیں ہوئی، کیونکہ نماز کا فرض (یعنی قراءت) آپ سے چھوٹ گیا،(۲) اگر نماز کا واجب بھول جائیں تو اس کی تلافی سجدۂ سہو سے ہوجاتی ہے، فرض چھوٹ جائے تو اس کی تلافی سجدۂ سہو سے نہیں ہوتی۔ بعد میں وتر کی نماز میں آپ نے دو رکعت پر سلام پھیر دیا، آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا، چونکہ آپ نے نماز توڑ دی، اس لئے سنت ادا نہیں ہوئی۔
- (۱) ولو قرأ التشھد فی القیام إن کان فی الرکعۃ الأولٰی لَا یلزمہ شیء، وإن کان فی الرکعۃ الثانیۃ إختلف المشائخ فیہ والصحیح أنہ لَا یجب، کذا فی الظھیریۃ۔ ولو تشھد فی قیامہ قبل قرائۃ الفاتحۃ فلا سھو علیہ ۔۔۔إلخ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۱۲۷، الباب الثانی عشر فی سجود السھو)۔ أیضًا: (وکل النفل والوتر) أی القرائۃ فرض فی جمیع رکعات النفل والوتر ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۶۰)۔
- (۲) فإن کان المترک فرضًا تفسد الصلاۃ، وإن کان واجبًا لَا تفسد ولٰـکن تنتقص وتدخل فی حد الکراھۃ ۔۔۔إلخ۔ (بدائع الصنائع ج:۱ ص:۱۶۷، کتاب الصلاۃ، فصل فی بیان أن المتروک ساھیًا ھل یقضٰی أم لَا)۔ ولَا یجب السجود إلّا بترک واجب أو تأخیرہ ۔۔۔ أو تغییر واجب ۔۔۔إلخ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۱۲۶، الباب الثانی عشر فی سجود السھو)۔

