سجدۂسہو
سجدۂسہوکبتککرسکتاہے؟
سوال:۔
نماز میں غلطی ہونے کی صورت میں سجدۂ سہو کرنا پڑتا ہے، اکثر بھول جاتا ہوں، سلام پھیرنے کے قریب یاد آتا ہے، اس وقت سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ سجدۂ سہو کروں یا نہیں؟ لیکن یہ سوچ کر سجدۂ سہو کرلیتا ہوں کہ نہ کرنے سے کرنا بہتر ہے، آپ یہ بتائیے کہ اگر بالکل بھول جائے اور دونوں سلام پھیرنے کے بعد یاد آئے تو کیا کرنا چاہئے؟ کیونکہ سجدۂ سہو کرنا بھول گیا؟
جواب:۔
نماز کے اندر جب بھی یاد آجائے سجدۂ سہو کرلیا جائے، اور سلام پھیرنے کے بعد جب تک اپنی جگہ قبلہ رُخ بیٹھے ہوں اور کوئی ایسا کام بھی نہیں کیا جس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے، اس وقت تک سجدۂ سہو کرسکتے ہیں۔(۱) سجدۂ سہو کے بعد دوبارہ التحیات وغیرہ پڑھ کر سلام پھیرا جائے،(۲) اور اگر سلام پھیر کر کوئی ایسا کام کرلیا جس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے، تو نماز کو دوبارہ لوٹانا واجب ہے۔(۳)
- (۱) ویسجد للسھو ولو مع سلامہ ناویًا للقطع ما لم یتحول عن القبلۃ أو یتکلم لبطلان التحریمۃ۔ (رد المحتار ج:۲ ص:۹۱، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو)۔
- (۲) وکیفیتہ أن یکبر بعد سلامہ الأوّل ویخر ساجدًا ویسبح فی سجودہ ثم یفعل ثانیًا کذالک ثم یتشھد ثانیًا ثم یسلم، کذا فی المحیط۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۱۲۵، کتاب الصلاۃ، الباب الثانی عشر فی سجود السھو)۔
- (۳) ویسجد للسھو ۔۔۔ ما لم یتحول عن القبلۃ أو یتکلم لبطلان التحریمۃ (قولہ لبطلان التحریمۃ) أی بالتحول أو التکلم وقیل ۔۔۔ أو یخرج من المسجد۔ (ردالمحتار علی الدر المختار ج:۲ ص:۹۱، باب سجود السھو)۔

