بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سجدۂ‌سہو

نفل‌نماز‌بیٹھ‌کر‌شروع‌کی‌اس‌کے‌بعد‌کھڑا‌ہوگیا‌تو‌سجدۂ‌سہو‌نہیں

سوال:۔

نفل نماز کی نیت بیٹھ کر باندھی، سورۂ فاتحہ پڑھنے کے بعد خیال آیا کہ ثواب آدھا ملے گا، کھڑا ہوگیا اور سورۃ پڑھ کر رُکوع کیا، یا ایک رکعت بیٹھ کر پڑھنے کے بعد خیال آیا تو دُوسری رکعت کھڑے ہوکر پڑھی، اس کے لئے کیا حکم ہے، کیا سجدۂ سہو کیا جائے گا یا نماز دُہرانا ہوگی؟

جواب:۔

جو صورت آپ نے لکھی ہے یہ بالاتفاق جائز ہے،(۱) اس لئے نہ سجدۂ سہو لازم، نہ نماز کا دُہرانا۔ اس کے برعکس نفل نماز کھڑے ہوکر شروع کرنا اور بیٹھ کر پوری کرنا حضرت اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک جائز ہے اور حضرت اِمام ابویوسفؒ اور حضرت اِمام محمدؒ کے نزدیک جائز نہیں۔(۲)

  1. (۱) ولو افتتح التطوع قاعدًا فأدی بعضھا قاعدًا وبعضھا قائمًا أجزائہ ۔۔۔إلخ۔ (بدائع الصنائع ج:۱ ص:۲۹۸)۔
  2. (۲) ولو افتتح التطوع قائمًا ثم أراد أن یقعد من غیر عذر فلہ ذٰلک عند أبی حنیفۃ استحسانًا وعند أبی یوسف ومحمد لَا یجوز۔ (بدائع الصنائع ج:۱ ص:۲۹۷، فصل فی بیان ما یفارق التطوع الفرض فیہ)۔