بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سجدۂ‌سہو

جمعہ‌اور‌عیدین‌میں‌سجدۂ‌سہو‌نہ‌کرنے‌کی‌گنجائش‌ہے

سوال:۔

نمازِ جمعہ کی آخری رکعت میں مولوی صاحب التحیات کے بعد ’’اللہ اکبر‘‘ کہہ کر دوبارہ سیدھے کھڑے ہوگئے اور تقریباً دو یا ڈیڑھ منٹ تک سیدھے کھڑے رہنے کے بعد فوراً بیٹھ گئے اور اس کے بعد سلام پھیر دیا، لیکن سجدۂ سہو نہیں کیا، پھر خود ہی مولوی صاحب نے یہ اعلان کیا کہ ہم آخری رکعت میں التحیات پڑھ چکے تھے، اس لئے سجدۂ سہو لازم نہیں ہے، اور جمعہ کی نماز میں چاہے فرض چھوٹ جائے یا واجب اس میں نہ تو نماز کو دوبارہ پڑھنا چاہئے اورنہ سجدۂ سہو کرنا چاہئے، کیا یہ مسئلہ دُرست ہے؟

جواب:۔

آخری رکعت میں التحیات پڑھ کر اگر کھڑا ہوجائے تو سجدۂ سہو لازم ہوجاتا ہے،(۱) مگر جمعہ اور عیدین کی نماز میں اگر مجمع بہت زیادہ ہو اور سجدۂ سہو کرنے سے نمازیوں کی پریشانی کا اندیشہ ہو تو سجدۂ سہو نہ کرنا بہتر ہے۔(۲) اور مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ جمعہ کی نماز میں چاہے فرض چھوٹ جائے دوبارہ نماز نہیں پڑھنی چاہئے، غلط ہے۔ فرض چھوٹ جانے کی صورت میں نماز کا لوٹانا ضروری ہے اور واجب چھوٹ جانے کی صورت میں سجدۂ سہو لازم ہوجاتا ہے، لیکن جمعہ اور عیدین میں اگر مجمع زیادہ ہو تو سجدۂ سہو نہ کیا جائے۔

  1. (۱) ولَا یجب السجود إلّا بترک واجب أو تأخیرہ أو تأخیر رکن أو تقدیمہ ۔۔۔إلخ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۱۲۶، باب سجود السھو)۔ أیضًا: وإن قعد الأخیر ثم قام، عاد وسلم من غیر إعادۃ التشھد ۔۔۔ وسجد للسھو۔ (مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی ص:۴۷۰، باب سجود السھو)۔
  2. (۲) إن مشایخنا قالوا لَا یسجد للسھو فی العیدین والجمعۃ لئلًا یقع الناس فی فتنۃ کذا فی المضمرات۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۲۸)۔ أیضًا: ولَا یأتی الْإمام بسجود السھو فی الجمعۃ والعیدین دفعًا للفتنۃ بکثرۃ الجماعۃ۔ (حاشیۃ الطحطاوی مع مراقی الفلاح، باب سجود السھو ص:۴۶۵، ۴۶۶ طبع قدیمی)۔