سجدۂسہو
عیدکیتکبیراتاِمامزیادہکہہدےیاکمکردےتوسجدۂسہوکرے
سوال:۔
عید کی نماز میں زائد چھ تکبیروں سے اِمام سات یا آٹھ تکبیریں کہہ دے، یا اِمام سے پہلی یا دُوسری رکعت میں زائد تکبیریں چھوٹ جائیں تو کیا کرنا چاہئے؟
جواب:۔
دونوں صورتوں میں سجدۂ سہو واجب ہے،(۱) لیکن اگر مجمع زیادہ ہو اور سجدۂ سہو کرنے سے مقتدیوں کی نماز میں گڑبڑ کا اندیشہ ہو تو سجدۂ سہو نہ کرے۔(۲)
- (۱) والسھو یلزم أی یجب ۔۔۔ إذا زاد فی صلٰوتہ فعلًا من جنسھا لیس منھا ۔۔۔ أو ترک فعلًا مسنونًا أی واجبًا عرف وجوبہ بالسُّنّۃ أو ترک ۔۔۔ تکبیرات العیدین أو بعضھا أو تکبیرۃ الرکعۃ الثانیۃ منھما۔ (اللباب فی شر الکتاب ج:۱ ص:۱۰۲، ۱۰۳، باب سجود السھو، طبع قدیمی)۔ أیضًا: (قولہ أو تکبیرات العیدین) أو البعض لأنہ واجب وکذا إذا ترک تکبیرۃ الرکوع من صلٰوۃ العید یجب السھو۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۹۲ باب سجود السھو)۔
- (۲) السھو فی العیدین والجمعۃ والمکتوبۃ والتطوع واجب إلّا ان مشایخنا قالوا لَا یسجد للسھو فی العیدین والجمعۃ لئلّا یقع الناس فی الفتنۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۲۸، الباب الثانی عشر فی سجود السھو)۔

