بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سجدۂ‌سہو

چار‌رکعت‌کے‌بجائے‌پانچ‌پڑھنے‌والا‌سجدۂ‌سہو‌کس‌طرح‌کرے؟

سوال:۔

اگر چار رکعت کے بجائے پانچ رکعت پڑھ لیں اور آخر میں سجدۂ سہو کرلیا تو نماز ہوگئی یا لوٹانا لازمی ہے؟

جواب:۔

اگر پانچویں رکعت کا سجدہ کرنے سے پہلے یاد آجائے تو فوراً قعدہ میں بیٹھ جائے اور سجدۂ سہو کرلے، نماز ہوگئی، اور اگر اس وقت یاد آیا جبکہ پانچویں رکعت کا سجدہ کرلیا تھا تو ایک رکعت اور ملاکر چھ رکعتیں پوری کرلے، اب اگر چوتھی رکعت کے بعد قعدہ کیا تھا تب تو اس کے فرض ادا ہوگئے، ورنہ یہ چھ رکعتیں نفل بن گئیں، فرض دوبارہ پڑھے، مگر دونوں صورتوں میں سجدۂ سہو لازم ہے۔(۱)

  1. (۱) رجل صلی الظھر خمسًا وقعد فی الرابعۃ قدر التشھد ان تذکر قبل أن یقید الخامسۃ بالسجدۃ إنھا الخامسۃ عاد إلی القعدۃ وسلم ویسجد للسھو وإن تذکر بعد ما قید الخامسۃ بالسجدۃ انھا الخامسۃ لَا یعود إلی القعدۃ ولَا یسلم بل یضیف إلیھا رکعۃ أخریٰ حتی یصیر شفعًا ویتشھد ویسلم ویسجد للسھو ۔۔۔ وإن لم یقعد علٰی رأس الرابعۃ حتی قام إلی الخامسۃ إن تذکر قبل أن یقید الخامسۃ عاد إلی القعدۃ ھٰکذا فی المحیط ۔۔۔ وإن قید الخامسۃ بالسجدۃ فسد ظھرہ عندنا کذا فی المحیط ۔۔۔ وتحولت صلاتہ نفلًا عند أبی حنیفۃ وأبی یوسف رحمھما اللہ تعالٰی۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۲۹، الباب الثنی عشر فی سجود السھو)۔