بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سجدۂ‌سہو

تین‌رکعت‌فرض‌کو‌بھول‌کر‌چار‌رکعت‌پڑھنا

سوال:۔

مغرب کی نماز میں اِمام صاحب آخری رکعت میں تشہد میں بیٹھے تھے، پیچھے سے کسی مقتدی نے ’’سبحان اللہ‘‘ کہا اور اس پر اِمام صاحب بیٹھے رہے، پھر کسی دُوسرے مقتدی نے ’’سبحان اللہ‘‘ کہا، اس پر اِمام صاحب کھڑے ہوگئے اور چوتھی رکعت پوری کرکے سجدۂ سہو کیا اور سلام پھیر دیا، کچھ لوگوں کے قول کے مطابق تین فرض ادا ہوگئے، جبکہ ایک زائد رکعت باطل ہوگئی، لیکن کچھ مقتدیوں کا خیال ہے کہ نماز دوبارہ پڑھنی چاہئے اس لئے کہ آخری قعدہ فرض ہے۔

جواب:۔

قعدۂ اخیرہ میں تشہد پڑھنے کی مقدار بیٹھنا فرض ہے، اگر قعدۂ اخیرہ بالکل ہی ترک کردیا جائے یا بقدرِ تشہد نہ بیٹھا جائے تو فرض ادا نہ ہونے کی وجہ سے نماز فاسد ہوجائے گی، اعادہ ضروری ہوگا۔(۱) جب دُوسرے مقتدی کے ’’سبحان اللہ‘‘ کہنے پر اِمام صاحب کھڑے ہوئے تو اگر وہ اس وقت تک تشہد پڑھنے کی مقدار بیٹھ چکے تھے تب تو سجدۂ سہو ادا کرنے کے بعد تین رکعت مغرب کے فرض ادا ہوگئے، اور اگر اِمام صاحب تشہد پڑھنے کی مقدار نہیں بیٹھے، بلکہ اس سے پہلے ہی کھڑے ہوگئے تو سجدۂ سہو کے باوجود مغرب کی فرض نماز فاسد ہوگئی، اس نماز کو دُہرایا جائے گا، البتہ پڑھی ہوئی نماز چار رکعت نفل ہوجائے گی۔(۲)

  1. (۱) ومنھا أی من الفرائض الصلٰوۃ القعود الأخیر مقدار التشھد ۔۔۔ والقعدۃ الأخیرۃ فرض فی الفرض والتطوع حتّٰی لو صلّٰی رکعتین ولم یقعد فی آخرھما وقام وذھب تفسد صلاتہ کذا فی الخلاصۃ ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۷۱ الباب الرابع فی صفۃ الصلاۃ، الفصل الأوّل فی فرائض الصلاۃ)۔
  2. (۲) ولو سھا عن القعود الأخیر کلہ أو بعضہ عاد ما لم یقیدھا بسجدۃ ۔۔۔ وسجد للسھو لتأخیر القعود وإن قیدھا بسجدۃ تحول فرضہ نفلًا برفعہ ۔۔۔ وإن قعد فی الرابعۃ مثلًا قدر التشھد ثم قام عاد وسلم ۔۔۔ وإن سجد للخامسۃ سلموا، وضم إلیھا السادسۃ ۔۔۔ لتصیر الرکعتان لہ نفلًا وسجد للسھو۔ (تنویر الأبصار مع الدر المختار ج:۲ ص:۸۵ تا ۸۷ باب سجود السھو)۔ وفی الطحطاوی علی الدر المختار، باب سجود السھو (ج:۱ ص:۳۱۴، طبع رشیدیہ) (قولہ مثلًا) أی أو قعد فی ثالثہ الثلاثی أو ثانیہ الثنائی۔