بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سجدۂ‌سہو

ایک‌رکعت‌زیادہ‌پڑھ‌لی‌تو‌کیا‌سجدۂ‌سہو‌کرنے‌سے‌نماز‌ہوجائے‌گی؟

سوال:۔

مغرب کی نماز فرض میں اِمام صاحب نے تین کی جگہ چار رکعت پڑھادیں، سلام پھیرتے ہی لوگوں نے کہا کہ چار رکعت ہوئی ہیں، اِمام صاحب سجدۂ سہو میں چلے گئے اور نماز ختم کی اور کہا کہ جن لوگوں نے کہا تھا وہ نماز دوبارہ پڑھ لیں، باقی سب کی نماز ہوگئی، جبکہ اِمام صاحب جب چوتھی رکعت کے لئے کھڑے ہوئے تو مقتدیوں نے لقمہ بھی دیا تھا، مقتدیوں نے اِمام صاحب کو نماز دوبارہ پڑھانے کو کہا لیکن اِمام صاحب راضی نہ ہوئے، اور کہا کہ نماز ہوگئی، اس طرح تقریباً آدھے نمازیوں نے دوبارہ جماعت کرائی، آدھے اِمام صاحب کی بات پر رہے کہ نماز ہوگئی۔ اِمام صاحب نے نماز دوبارہ نہیں پڑھائی۔ آپ اب اس کو واضح کریں کہ نماز ہوئی یا نہیں؟ اس لئے کہ اگر نماز ہوگئی تو جن لوگوں نے دوبارہ نماز پڑھی ان کے لئے کیا حکم ہے؟ اور جن لوگوں نے نہیں پڑھی ان کے لئے کیا ہے؟

جواب:۔

اگر اِمام صاحب تیسری رکعت کے بعد التحیات میں بیٹھے تھے اور بجائے سلام پھیرنے کے چوتھی رکعت کے لئے کھڑے ہوگئے تو سجدۂ سہو کرنے سے ان کی اور جن مقتدیوں نے گفتگو نہیں کی تھی ان کی نماز ہوگئی،(۱) اور اگر تیسری رکعت پر بیٹھے نہیں تھے سیدھے کھڑے ہوگئے تھے تو کسی کی بھی نماز نہیں ہوئی، دوبارہ پڑھنا ضروری ہے۔(۲)

  1. (۱) وإن قعد فی الرابعۃ مثلًا قدر التشھد ثم قام عاد وسلم صح (قولہ مثلًا) أی أو قعد فی ثالثہ الثلاثی أو فی ثانیہ الثنائی۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار ج:۱ ص:۳۱۴، باب سجود السھو)۔
  2. (۲) وإنما تجب الْإعادۃ إذا ترک واجبًا عمدًا جبرًا لنقصانہ۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۲۶۱ باب سجود السھو)۔