بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سجدۂ‌سہو

بھول‌کر‌اِمام‌کے‌ساتھ‌سلام‌پھیرنے‌والا‌اگر‌فوراً‌سجدۂ‌سہو‌کرلے‌تو‌کیا‌حکم‌ہے؟

سوال:۔

میں اِمام کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا، مگر پہلی رکعت میں شامل نہ ہوسکا، سلام پھیرتے وقت میں نے بھی سلام پھیر لیا، لیکن فوراً یاد آگیا، لہٰذا میں نے سجدۂ سہو کیا اور اُٹھ کر ایک رکعت نماز پڑھ کر سلام پھیر لیا، کیا اس طریقے سے میری نماز صحیح ہوگئی؟ اگر جس رکعت میں غلطی ہوجائے تو اسی رکعت میں سجدۂ سہو کرنے میں کوئی حرج تو نہیں؟

جواب:۔

اگر بھول کر اِمام کے ساتھ سلام پھیر دے اور فوراً ہی یاد آجائے کہ میری رکعت باقی ہے تو اس سے سجدۂ سہو واجب نہیں ہوگا،(۱) سجدۂ سہو ہمیشہ آخری التحیات میں ادا کیا جاتا ہے، جس رکعت میں غلطی ہو، اسی میں ادا کرنا دُرست نہیں۔(۱)

  1. (۱) وإن سلم (أی المسبوق) مع الْإمام مقارنًا لہ أو قبلہ ساھیًا فلا سھو علیہ لأنہ فی حال إقتدائہ، وإن سلّم بعدہ یلزمہ السھو لأنہ منفرد۔ (مراقی الفلاح علٰی ھامش الطحطاوی ص:۲۵۳، باب سجود السھو)۔ أیضًا: المسبوق یتبع إمامہ ۔۔۔ فإن سلم مع الْإمام فإن کان عامدًا فسدت صلاتہ وإلّا لَا۔ (ردالمحتار ج:۲ ص:۸۲ باب سجود السھو)۔
  2. (۲) لأن سجود السھو أخر عن محل النقصان بالْإجماع وإنما کان لمعنی ذٰلک المعنی یقتضی التأخیر عن السلام۔ (بدائع الصنائع ج:۱ ص:۱۷۳، فصل فی بیان محل سجود السھو)۔