سجدۂسہو
’’مسبوق‘‘اور’’لاحق‘‘کےسجدۂسہوکاحکم
سوال:۔
ہمارے اِمام صاحب مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے اور دُوسری رکعت میں جب وہ التحیات پڑھنے بیٹھے تو اُٹھنا بھول گئے اور مزید پڑھتے رہے، پیچھے سے کسی نے ’’اللہ اکبر‘‘ کہا، اِمام صاحب اُٹھے، تیسری رکعت میں ایک مقتدی آکر شامل ہوئے، اِمام نے سجدۂ سہو کیا، ساتھ ہی بعد میں آنے والے متقدی نے بھی سجدۂ سہو کیا، اِمام نے سلام کہا، مقتدی کھڑا ہوگیا، جب مقتدی اپنی آخری رکعت میں التحیات پڑھ رہا تھا تو ہمارے گاؤں کے مولانا صاحب نے اس سے کہا کہ سجدۂ سہو کرو، اس نے نہ کیا، حالانکہ غلطی اِمام صاحب نے کی تھی اور مقتدی نے اس کے ساتھ سجدۂ سہو بھی کیا تھا، مگر اِمام کا کہنا ہے کہ اس کو اپنی رکعت میں بھی سجدۂ سہو کرنا چاہئے تھا۔ اِمام صاحب کے پاس ایک کتاب ’’رُکنِ دین‘‘ ہے، جس میں لکھا ہوا ہے کہ مقتدی کو اپنی آخری رکعت میں سجدۂ سہو کرنا چاہئے، جبکہ ہم نے دُوسری کتابوں میں دیکھا، مگر وہاں لکھا ہے کہ سجدۂ سہو نہیں ہوگا۔ ہم سب اہلِ سنت سے تعلق رکھتے ہیں اور اس مسئلہ کا جواب براہِ کرم قرآن و حدیث اور فقہِ حنفی کی روشنی میں تحریر فرمائیں، کیونکہ اس نمازی نے اس مسئلے پر اِمام سے جھگڑے کی بنیاد پر اِمام کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ دی ہے، مقتدی نے کئی جگہ سے تصدیق کروائی تو جواب ملا کہ سجدۂ سہو نہیں ہوگا، جبکہ اِمام صاحب یہ بات کہتے ہیں کہ جو اس کتاب میں لکھا ہے وہ صحیح ہے۔ اِمام صاحب اپنی اس ایک بات پر ڈٹے ہوئے ہیں، اور تصدیق نہیں کرواتے۔ اور یہ بھی آپ بتائیں کہ اس جھگڑے میں مقتدی نے اِمام صاحب کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ دی ہے اور کیا مقتدی کا یہ فعل صحیح ہے یا کہ غلط؟ اور مقتدی نماز گھر میں پڑھتا ہے۔ جن صاحب نے یہ کتاب لکھی ہے ان کا نام یہ ہے: ’’حضرت مولانا شاہ رُکن الدین صاحب‘‘، اس کتاب میں یہ سوال ہے کہ اگر لاحق کے اِمام نے اپنے سہو سے سجدہ کیا تو یہ لاحق کیا کرے؟ اور اس کا جواب یہ ہے کہ اِمام کے سہو سے لاحق پر بھی سجدۂ سہو واجب ہے، اب لاحق نماز کے آخر میں سجدہ کرے جیسے اس کے اِمام نے آخر میں کیا ہے، اور اگر اِمام کے ساتھ کرلے گا تو پھر دوبارہ اس کو کرنا چاہئے (در مختار)۔
جواب:۔
جو شخص دُوسری یا بعد کی کسی رکعت میں آکر جماعت میں شامل ہوا ہو، اس کو ’’مسبوق‘‘ کہتے ہیں،(۱) مسبوق کو چاہئے کہ جب اِمام سجدۂ سہو کرے تو یہ سلام پھیرے بغیر اِمام کے ساتھ سجدہ کرلے، اور پھر اِمام کی نماز ختم ہونے کے بعد اپنی رہی ہوئی رکعت یا رکعتیں پوری کرے، ان رکعتوں میں اگر اس کو کوئی سہو ہوجائے تو دوبارہ سجدۂ سہو کرے گا، ورنہ نہیں۔(۲) درمختار میں ہے:
’’وَالْمَسْبُوقُ يَسْجُدُ مَعَ إِمَامِهِ مُطْلَقًا سَوَاءٌ كَانَ السَّهْوُ قَبْلَ الْاِقْتِدَاءِ أَوْ بَعْدَهُ ثُمَّ يَقْضِي مَا فَاتَهُ وَلَوْ سَهَا فِيهِ سَجَدَ ثَانِيًا۔‘‘ (درمختار ج:۲ ص:۸۳)
’’رُکنِ دین‘‘ میں جو مسئلہ لکھا ہے، وہ صحیح ہے، مگر وہ ’’مسبوق‘‘ کا نہیں، بلکہ ’’لاحق‘‘ کا ہے، اور ’’لاحق‘‘ وہ شخص کہلاتا ہے جو ابتداء سے اِمام کے ساتھ شریک ہو، مگر کسی وجہ سے نماز کا آخری حصہ اسے اِمام کے ساتھ نہ ملا ہو۔(۳) آپ کے اِمام صاحب سے یہ سہو ہوا کہ انہوں نے ’’مسبوق‘‘ اور ’’لاحق‘‘ کے درمیان فرق نہیں کیا، اس لئے ’’لاحق‘‘ کا مسئلہ ’’مسبوق‘‘ پر چسپاں کردیا۔
- (۱) والمسبوق من سبقہ الْإمام بھا أی بکل الرکعات بأن اقتدی بہ بعد رکوع الأخیرۃ وقولہ أو ببعضھا أی بعض الرکعات۔ (درمختار مع ردالمحتار ج:۱ ص:۵۹۶ باب الْإمامۃ)۔
- (۲) ثم المسبوق إنما یتابع الْإمام فی السھو أی فی سجدۃ السھو بأن سجد ھو دون السلام بل ینتظر الْإمام حتی یسلم فیسجد فیتابعہ فی سجود السھو لَا فی سلامہ۔ (بدائع الصنائع ج:۱ ص:۱۷۶، فصل فی بیان من یجب علیہ السھو ۔۔۔إلخ)۔
- (۳) واللاحق من فاتتہ الرکعات کلھا أو بعضھا لٰـکن بعد إقتدائہ بعذر کغفلۃ وزحمۃ وسبق حدث ۔۔۔ وکذا بلا عذر بأن سبق إمامہ ۔۔۔إلخ۔ (درمختار ج:۲ ص:۵۹۴، باب الْإمامۃ، مطلب فی أحکام المسبوق والمدرک واللاحق)۔

