بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سجدۂ‌سہو

لقمہ‌دینے‌پر‌صحیح‌پڑھ‌لینے‌سے‌سجدۂ‌سہو‌لازم‌نہیں

سوال:۔

ہمارے محلے میں ایک مسجد ہے، میں اس مسجد میں نماز پڑھتا ہوں، اتفاق سے ایک دن اِمام صاحب کسی کام سے باہر گئے ہوئے تھے، لہٰذا ہم نمازیوں نے کسی دُوسرے آدمی کو اِمامت کے لئے کہا، وہ نماز پڑھانے لگے تو ان صاحب سے قراء ت میں دو مقام پر غلطی ہوئی، اور نمازیوں نے ان کو لقمہ دیا اور قراء ت کو صحیح پڑھایا اور اس طرح نماز ختم ہوئی، نماز جیسے ہی ختم ہوئی تو کچھ نمازیوں نے کہا کہ اِمام صاحب کو سجدۂ سہو کرنا چاہئے، لہٰذا نماز دوبارہ ادا کریں، اور کسی نے کہا کہ نماز صحیح ہوگئی، لوٹانے کی ضرورت نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اِمام صاحب سے فرض نماز میں غلطی ہوجائے (جیسی اُوپر بیان کی گئی ہے) تو کیا سجدۂ سہو لازم ہوتا ہے یا نہیں؟

جواب:۔

اِمام صاحب کے قراء ت میں بھول جانے اور پھر لقمہ دینے پر صحیح پڑھ لینے سے سجدۂ سہو لازم نہیں آتا، نماز صحیح ہوگئی۔(۱)

  1. (۱) بخلاف فتحہ علٰی إمامہ فإنہ لَا یفسد مطلقًا لفاتح وآخذ بکل حال ۔۔۔إلخ۔ (رد المحتار مع در مختار ج:۱ ص:۶۲۲ باب ما لَا یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، طبع سعید)۔