بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سجدۂ‌سہو

اِمام‌قراء‌ت‌میں‌درمیان‌سے‌کوئی‌آیت‌چھوڑ‌دے‌تو‌کیا‌سجدۂ‌سہو‌ہے؟

سوال:۔

جہری نماز کے اندر قراء ت کے دوران اِمام نے تقریباً تین آیات سے زیادہ پڑھنے کے بعد پوری ایک آیت چھوڑ دی، یا کچھ لفظ چھوڑ کر اسی سورۃ کو آگے سے پڑھنے لگے، نہ ہی مقتدی ٹوک سکے، کیا نماز کا اعادہ کرنا چاہئے یا سجدۂ سہو کافی ہوگا؟

جواب:۔

اگر پوری آیت چھوڑ دی گئی یا کچھ الفاظِ قرآنیہ چھوڑ دئیے گئے اور اس کے چھوڑنے سے معنی کے اندر کوئی تبدیلی پیدا نہ ہوئی تو ایسی صورت میں نہ نماز کا اعادہ واجب ہے، نہ سجدۂ سہو لازم ہے، نماز دُرست ہوگی۔(۱)

  1. (۱) ومنھا حذف حرف وإن لم یکن علٰی وجہ الْإیجاز والترخیم فإن کان لَا یغیر المعنی لَا تفسد صلاتہ ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۷۹، کتاب الصلاۃ، الفصل الخامس فی زلۃ القاری)۔