بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سجدۂ‌سہو

بھول‌کر‌اِمام‌کا‌آخری‌قعدہ‌میں‌کھڑے‌ہونا

سوال:۔

ایک مسجد میں جماعت ہو رہی تھی، اِمام صاحب آخری قعدہ میں بغیر التحیات پڑھے بالکل سیدھے کھڑے ہوگئے، مگر لوگوں کے ’’اللہ اکبر‘‘ کہنے پر بیٹھ گئے، سجدۂ سہو کیا اور نماز ختم کردی۔ سائل اور اس کے دوست کا موقف یہ تھا کہ نماز دوبارہ پڑھائی جائے، کیونکہ آخری قعدہ فرض ہے اور وہ ادا نہیں ہوا، لوگ نہیں مانے اور سائل اور اس کے دوست نے نماز دوبارہ پڑھ لی۔ اگلی نماز میں سائل موجود نہ تھا، لیکن سنا ہے کہ اِمام صاحب نے بہشتی زیور پڑھ کر لوگوں کو بتایا کہ ان کا طریقہ ٹھیک تھا، اور نماز ہوگئی ہے، اس بات کا تو مجھے یقین ہے کہ قعدہ فرض کے ادا نہ کرنے پر نماز نہیں ہوتی، لیکن پھر خیال آیا کہ شاید جماعت میں اس کی رعایت دی گئی ہو اور اِمام صاحب ہی کا موقف صحیح ہو، آپ اس کا صحیح حل بتادیں۔

جواب:۔

آخری قعدہ فرض ہے، اگر کوئی شخص بھول کر کھڑا ہوجائے تو جب تک پانچویں رکعت کا سجدہ نہیں کیا، اس کو لوٹ آنا چاہئے، فرض میں تأخیر کی وجہ سے اس پر سجدۂ سہو واجب ہے اور نماز ہوگئی۔ لیکن اگر پانچویں رکعت کا سجدہ کرلیا تو فرض نماز باطل ہوگئی، ایک اور رکعت ملاکر نماز پوری کرلے اور فرض نئے سرے سے پڑھے۔(۱)

آپ نے جو صورت لکھی ہے، اس میں اِمام صاحب کا موقف صحیح ہے، کیونکہ اس میں فرض ترک نہیں ہوا، بلکہ فرض میں تأخیر ہوئی تھی، جس کی تلافی سجدۂ سہو سے ہوگئی۔

  1. (۱) (وإن سھا عن الأخیر عاد ما لم یسجد) لأن فیہ إصلاح صلاتہ ۔۔۔ (وسجد للسھو) لتأخیرہ فرضًا وھو القعود الأخیر ۔۔۔ (فإن سجد بطل فرضہ برفعہ) لأنـہ استحـکم شـروعـہ فی النـافلـۃ قـبل إکمال أرکان المکتوبۃ ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۱۱۰، ۱۱۱، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، طبع دار المعرفۃ بیروت، أیضًا: رد المحتار ج:۲ ص:۸۷، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو)۔