سجدۂسہو
درمیانیقعدہبھولکرکھڑاہوگیاتوواپسنہلوٹےبلکہآخرمیںسجدۂسہوکرلے
سوال:۔
ایک مرتبہ ہمارے اِمام صاحب سہواً دُوسری رکعت کے بعد قعدہ کئے بغیر اُٹھ کھڑے ہوئے، نمازیوں نے ’’اللہ اکبر‘‘ کہہ کر یاد دہانی کرائی، مگر چونکہ وہ یاد دہانی سے قبل ہی سیدھے کھڑے ہوگئے تھے، اس لئے انہوں نے نماز جاری رکھی، اور آخری رکعت میں سجدۂ سہو کیا۔ پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ قیام کی حالت سے قعدہ میں آنے سے زیادہ بہتر ہے کہ سجدۂ سہو کیا جائے۔ غالباً انہوں نے واجب اور سنت کے الفاظ بھی اِستعمال کئے تھے، آپ بتلائیے کہ کیا اِمام صاحب نے دُرست کیا تھا کہ نہیں؟
جواب:۔
اِمام صاحب نے ٹھیک کیا، پہلا قعدہ چھوڑ کر اگر آدمی سیدھا کھڑا ہوجائے تو واپس نہیں لوٹنا چاہئے، آخر میں سجدۂ سہو کرلینا چاہئے۔(۱)
- (۱) السادس القعود الأوّل وکذا کل قعدہ لیست أخیرۃ سواء کان فی الفرض أو فی النفل فانہ یلزمہ سجود السھو بترکھا ساھیًا۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۱۰۲ باب سجود السھو، طبع دار المعرفۃ بیروت)۔ أیضًا: سھا عن القعود الأوّل من الفرض ثم تذکرہ، عاد إلیہ وتشھد، ولَا سھو علیہ فی الأصح ما لم یستقم قائمًا فی ظاھر المذھب وھو الأصح وإلّا أی وإن إستقام قائمًا لَا وسجد للسھو۔ (درمختار ج:۲ ص:۸۳، باب سجود السھو)۔

