بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سجدۂ‌سہو

قعدۂ‌اُولیٰ‌میں‌بھول‌کر‌کھڑا‌ہونے‌والا‌یاد‌دِلانے‌پر‌بیٹھ‌کر‌سجدۂ‌سہو‌کرنے‌والے‌کی‌نماز

سوال:۔

چار فرضوں کی نماز میں ہمارے حافظ صاحب قعدۂ اُولیٰ میں نہیں بیٹھے، اور حافظ صاحب بالکل سیدھے ہوگئے اور ہم نے اللہ اکبر کرکے بٹھادیا، اور پھر التحیات پڑھ کے دو رکعتیں پوری کیں، اور بعد میں سجدۂ سہو دِیا، معلوم یہ کرنا ہے کہ ہماری نماز ہوگئی؟

جواب:۔

اگر دو رکعتوں پر سیدھا کھڑا ہوجائے تو دوبارہ نہیں بیٹھنا چاہئے، بلکہ سجدۂ سہو کرلینا چاہئے، تاہم اگر دوبارہ لوٹ آیا اور سجدۂ کرلیا تو نماز ہوگئی۔(۱)

  1. (۱) فلو عاد إلی القعود بعد ذٰلک تفسد صلاتہ لرفض الفرض لما لیس بفرض، وصححہ الزیلعی وقیل لَا تفسد لٰـکنہ یکون مسیئًا ویسجد لتأخیر الواجب، وھو الأشبہ کما حققہ الکمال وھو الحق بحر ۔۔۔إلخ۔ درمختار وفی الشامیۃ: قولہ بعد ذٰلک أی بعدھا ما استقام قائمًا ۔۔۔إلخ۔ قولہ لٰـکنہ یکون مسیئًا أی یأثم کما فی الفتح۔ (رد المحتار ج:۲ ص:۸۴، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، طبع ایچ ایم سعید)۔