سجدۂسہو
تینسجدےکرنےپرسجدۂسہوواجبہے
سوال:۔
بندے نے آج عصر کی نماز قریبی مسجد میں ادا کی جماعت کے ساتھ، جب اِمام صاحب چوتھی رکعت کے سجدے میں گئے تو بجائے دو سجدوں کے تین سجدے کئے، کیا اس طرح یہ نماز ہوگئی؟ جبکہ ایک سجدہ زائد ہے۔
جواب:۔
اگر کسی رکعت میں بھول کر دو کے بجائے تین سجدے کرے تو اس سے سجدۂ سہو واجب ہوجاتا ہے۔(۱) پس اگر آپ کے اِمام صاحب نے سجدۂ سہو کرلیا تھا تو نماز ہوگئی، اور اگر سجدۂ سہو نہیں کیا تھا تو اس نماز کا لوٹانا واجب ہے۔(۲)
- (۱) وذکر فی الذخیرۃ ان سجود السھو یجب بستۃ أشیاء ۔۔۔ ویجب بتکرار الرکن ھٰذا الثالث من الستۃ نحو أن یرکع مرتین أو یسجد ثلاث مرات ۔۔۔إلخ۔ (حلبی کبیر ص:۴۵۶ فصل فی سجود السھو، طبع سھیل اکیڈمی لَاہور)۔
- (۲) (ولھا واجبات) لَا تفسد بترکھا، وتعاد وجوبًا فی العمد والسھو إن لم یسجد ۔۔۔ (قولہ وتعاد وجوبًا) أی بترک ھٰذہ الواجبات أو واحد منھا ۔۔۔ (قولہ: إن لم یسجد لہ) أی للسھو، وھٰذا قید لقولہ والسھو، إذ لَا سجود فی العمد۔ (ردالمحتار مع الدر المختار ج:۱ ص:۴۵۶، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب واجبات الصلاۃ، طبع ایچ ایم سعید۔ أیضًا: البحر الرائق ج:۱ ص:۵۱۵، باب صفۃ الصلاۃ، طبع رشیدیہ)۔

