بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سجدۂ‌سہو

چار‌رکعت‌سنتِ‌مؤکدہ‌کے‌درمیانی‌قعدہ‌میں‌التحیات‌سے‌زیادہ‌پڑھنے‌پر‌سجدۂ‌سہو

سوال:۔

ظہر کی چار مؤکدہ سنتیں پڑھیں، درمیان والے قعدہ میں دُرود شریف دُعا وغیرہ بھی پڑھ لی تو آیا سجدۂ سہو کرنا پڑے گا یا نہیں؟ جبکہ فرضوں میں ایسا ہوجانے سے سجدۂ سہو کرنا پڑتا ہے۔

سوال:۔

چار رکعت فرض یا سنت نماز میں دو رکعت پڑھنے کے بعد کوئی آدمی غلطی سے التحیات پڑھے بغیر کھڑا ہوجائے اور تیسری رکعت میں بیٹھ کر التحیات پڑھے اور پھر کھڑا ہوکر چوتھی رکعت پڑھے، اس کے بعد سجدۂ سہو کرلے، تو کیا اس کی نماز ہوجائے گی یا لوٹانی پڑے گی؟

جواب:۔

چار رکعت والی مؤکدہ سنتوں کے پہلے قعدہ میں اگر بھول کر دُرود شریف پڑھ لے تو بعض کے نزدیک سجدۂ سہو واجب نہیں ہوتا، مگر صحیح یہ ہے کہ اس سے سجدۂ سہو واجب ہوجاتا ہے، اس لئے احتیاط کی بات یہی ہے کہ سجدۂ سہو کرے۔(۱)

جواب:۔

اسے تیسری رکعت پر نہیں بیٹھنا چاہئے، بلکہ آخری قعدہ میں سجدۂ سہو کرلینا چاہئے، چونکہ سجدۂ سہو کرلیا، اس لئے نماز صحیح ہوگئی۔(۲)

  1. (۱) ولو کرر التشھد فی القعدۃ الأولٰی فعلیہ السھو وکذا لو زاد علی التشھد الصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم کذا فی التبیین وعلیہ الفتویٰ کذا فی المضمرات۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۲۷)۔
  2. (۲) کل قعدۃ لیست أخیرۃ سواء کان فی الفرض أو فی النفل فإنہ یلزمہ سجود السھو بترکھا ساھیًا ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۱۰۲، طبع بیروت، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو)۔