سجدۂسہو
الحمدیادُوسریسورۃچھوڑدینےسےسجدۂسہوواجبہے
سوال:۔
نماز میں قراء ت کرنا فرض ہے، جس کے چھوٹ جانے سے نماز دُہرانی ہوگی، اور سجدۂ سہو سے کام نہیں چلتا، اکثر مولوی صاحبان کی رائے ہے کہ سورۂ فاتحہ کے بعد دوسری سورۃ بھولے سے رہ جائے اور رُکوع کو چلا جائے تو سجدۂ سہو سے نماز ہوجاتی ہے، کیا سورۂ فاتحہ کا ادا کرنا قراء ت کے ادا کرنے کی شرط کو پورا کردیتا ہے یا سورۂ فاتحہ کو قراء ت میں بھی شامل نہیں کیا جاسکتا؟ اگر سورۂ فاتحہ قراء ت میں شامل نہیں تو پھر فرض ادا ہونے سے رہ گیا، سجدۂ سہو کس طرح اس کمی کو پوری کردے گا؟
جواب:۔
نماز میں مطلق قراء ت فرض ہے،(۱) اور معین طور پر سورۂ فاتحہ پڑھنا اور اس کے ساتھ کوئی سورۃ ملانا (یا ایک بڑی آیت یا تین چھوٹی آیتیں) یہ دونوں واجب ہیں،(۲) اس لئے اگر بالکل ہی قراء ت نہیں کی تو نماز نہیں ہوئی، اور اگر سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی یا سورۃ نہیں ملائی تو سجدۂ سہو واجب ہوگا،(۳) اور سجدۂ سہو کرلینے سے نماز صحیح ہوگئی۔
- (۱) قولہ والقرائۃ لقولہ تعالٰی: ﵟ فَٱقۡرَءُواْ مَا تَيَسَّرَ مِنَ ٱلۡقُرۡءَانِۚ ﵞ، وحکی الشارح الْإجماع علٰی فرضیتھا۔ (البحر الرائق، باب صفۃ الصلٰوۃ، ج:۱ ص:۳۰۸، طبع بیروت)۔
- (۲) وتجب قرائۃ الفاتحۃ وضم السورۃ أو ما یقوم مقامھا ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۷۱، باب صفۃ الصلٰوۃ)۔
- (۳) گزشتہ حاشیہ: ولو قرأ القرآن فی رکوعہ۔۔۔الخ ملاحظہ فرمائیں، نیز گذشتہ حاشیہ : ولَا یجب السھو إلّا بترک واجب ۔۔۔إلخ۔ ملاحظہ کریں۔

