سجدۂسہو
نمازمیںغلطیہونےپرکتنیدفعہسجدۂسہوکرناہوگا؟
سوال:۔
میرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر نماز میں غلطی ہوجائے یا بھول ہوجائے تو ایک ہی بار سجدۂ سہو کافی ہوتا ہے یا ہر غلطی یا بھول پر الگ الگ سجدۂ سہو کیا جائے، مثلاً: سنت میں غلطی ہو اور پھر فرضوں میں ہوجائے تو کتنے سجدۂ سہو کرنے چاہئیں؟
جواب:۔
نیت باندھنے کے بعد سلام پھیرنے تک ہر نماز مستقل ہوتی ہے، نماز کی نیت باندھنے سے لے کر سلام پھیرنے تک کے عرصے میں اگر کئی مرتبہ بھول ہوجائے تو ایک ہی مرتبہ سجدۂ سہو واجب ہوگا،(۱) اور اگر سلام پھیر کر دُوسری نماز شروع کی اور اس میں بھول ہوگئی تو سجدۂ سہو پھر واجب ہوگا۔(۲) مثلاً: سنت کی نیت باندھی تو اس کا سلام پھیرنے تک اس نماز میں اگر کئی جگہ بھول ہوئی تو ایک ہی مرتبہ سجدۂ سہو واجب ہوگا، اور سنت کے بعد جب فرض کی نیت باندھی اور اس میں بھول ہوئی تو اس میں الگ سجدۂ سہو واجب ہوگا۔
- (۱) ولو سھا فی صلاتہ مرارًا یکفیہ سجدتان کذا فی الخلاصۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۳۰، سجود السھو)۔
- (۲) فإن سجود السھو فی مطلق الصلاۃ ولَا یختص بالفرائض۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۹۸، باب سجود السھو)۔

