بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سجدۂ‌سہو

آخری‌قعدے‌میں‌شریک‌مقتدی‌کیا‌اِمام‌کے‌ساتھ‌سجدۂ‌سہو‌کرے؟

سوال:۔

اگر کوئی شخص آخر نماز جماعت میں شریک ہونے آیا، اسی حالت میں اس شخص نے اِرادہ قعدہ کیا، قبل اس کے بیٹھنے کے اِمام نے سجدۂ سہو کیا، آیا اس شخص کو کیا حکم ہے؟ اِمام کے ساتھ سجدۂ سہو کرے یا نہ کرے؟ اگر نہ کرے تو اس کی نماز ہوگی یا نہ ہوگی؟

جواب:۔

اس شخص پر سجدۂ سہو میں اِمام کے ساتھ شرکت واجب ہے، اگر شریک نہیں ہوا، تو گناہگار ہوگا۔(۱)

  1. (۱) لأن متابعۃ الْإمام واجبۃ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: تابع إمامک علٰی أیّ حال وجدتہ ۔۔۔إلخ۔ (البدائع ج:۱ ص:۱۷۵، فصل فی بیان من یجب علیہ سجود السھو ومن لَا یجب علیہ)، أیضًا سھو الْإمام یوجب علیہ وعلٰی من خلفہ السجود کذا فی المحیط ولَا یشترط أن یکون مقتدیا بہ وقت السھو حتی لو أدرک الْإمام بعد ما سھا یلزمہ أن یسجد مع الْإمام تبعًا لہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۲۸، باب سجود السھو)۔