سجدۂسہو
نمازمیںہونےوالیغلطیکیتلافیکاطریقہ
سوال:۔
اگر ہمیں محسوس ہو کہ ہم نے نماز پڑھتے ہوئے کوئی غلطی کی ہے، یعنی دو سجدوں کے بجائے تین کرلئے تو اس کی معافی کا کیا طریقہ ہوگا؟
جواب:۔
اگر غلطی سے نماز کا کوئی واجب چھوٹ جائے یا کسی فرض یا واجب کے ادا کرنے میں تأخیر ہوجائے تو ایسی غلطی کی اصلاح سجدۂ سہو سے ہوجاتی ہے، اگر نماز کا کوئی فرض رہ گیا ہو تو نماز کا لوٹانا ضروری ہے، اور اگر کوئی سنت چھوٹ جائے تو معاف ہے، اس لئے نمازی کو نماز کے فرائض و واجبات اور سنن اور مستحبات معلوم ہونے چاہئیں،(۱) اگر غلطی سے دو کے بجائے تین سجدے کرلئے تو سجدۂ سہو لازم آئے گا۔(۲)
- (۱) الأصل فی ھٰذا ان المتروک ثلاثۃ أنواع فرض وسنۃ وواجب، ففی الأوّل إن أمکنہ التدارک بالقضاء یقضی وإلّا فسدت صلاتہ، وفی الثانی لَا تفسد، لأن قیامھا بأرکانھا وقد وجدت، وفی الثالث إن ترک ساھیًا یجبر بسجدتی السھو کذا فی التتارخانیۃ۔ (عالمگیریۃ ج:۱ ص:۱۲۶، باب سجود السھو طبع رشیدیہ)۔
- (۲) لو رکع رکوعین أو سجد ثلاثًا فی رکعۃ لزمہ السجود۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۱۰۵، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، طبع بیروت)۔

