بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سجدۂ‌سہو

سجدۂ‌سہو‌کن‌چیزوں‌سے‌لازم‌آتا‌ہے‌اور‌کس‌طرح‌کرنا‌چاہئے؟

سوال:۔

نماز پڑھتے وقت کون کون سی یا کس قسم کی غلطی ہوجائے تو سجدۂ سہو ادا کرنا پڑتا ہے؟ اور سجدۂ سہو ادا کرنے کے لئے التحیات کے بعد سلام پھیرنا پڑتا ہے یا دُرود شریف اور دُعا بھی پڑھ کر پھر سلام پھیرنا پڑتا ہے؟

جواب:۔

سجدۂ سہو کے واجب ہونے کا اُصول یہ ہے کہ فرض کی تأخیر سے یا واجب چھوٹ جانے سے یا واجب کی تأخیر سے سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے۔(۱) آگے اس اُصول کی جزئیات بے شمار ہیں۔ سجدۂ سہو کا طریقہ یہ ہے کہ آخری قعدہ میں ’’عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ‘‘ تک پڑھ کر ایک طرف سلام پھیر دیں، پھر دو سجدے کرکے دوبارہ التحیات پڑھیں اور دُرود شریف اور دُعا کے بعد سلام پھیریں۔(۲)

  1. (۱) ولَا یجب السجود إلّا بترک واجب أو تأخیرہ أو تأخیر رکن أو تقدیمہ أو تکرارہ أو تغییر واجب۔ (عالمگیریۃ ج:۱ ص:۱۲۶، کتاب الصلاۃ، باب سجود السہو، طبع رشیدیۃ)۔
  2. (۲) وکیفیتہ أن یکبر بعد سلامہ الأوّل ویخر ساجدًا ویسبح فی سجودہ ثم یتشھد ثانیًا ثم یسلم ویأتی بالصلٰوۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم والدعاء فی قعدۃ السھو کذا فی التبیین۔ (أیضًا عالمگیریۃ، باب سجود السھو ج:۱ ص:۱۲۵)۔