بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسجد‌کے‌مسائل

مسجد میں مخصوص کام کے لئے دی گئی رقم کا دُوسری مد میں اِستعمال کرنا

سوال:۔

اگر کوئی شخص مسجد کے صحن کے فرش کو سنگِ مرمر سے بنوانے کے لئے چندہ دیتا ہے تو کیا اِنتظامیہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس رقم کو دیگر مصارف پر خرچ کرے؟

جواب:۔

اگر چندہ فرش لگانے کے لئے دِیا اور دُوسری ضروریات میں خرچ کرنے سے منع کیا، تو اس کا چندہ فرش میں ہی لگانا چاہئے، اس کی رضامندی کے بغیر اِنتظامیہ کو دُوسری جگہ خرچ کرنے کا حق نہیں۔(۱)

ایک حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشادِ گرامی ہے کہ جو شخص یہ چاہے کہ سب سے زیادہ قوی ہو، وہ اللہ پر توکل کرلے،(۲) اور جو یہ چاہے کہ سب سے زیادہ غنی ہو، اس کو چاہئے کہ جو چیز اللہ کے پاس ہے اس پر اس سے زیادہ اِعتماد رکھے، جتنا اپنے پاس کی چیز پر ہوتا ہے۔(۳)

  1. (۱) وفی الدر المختار: وفی الدرر وقف مصحفا علٰی أھل مسجد للقرائۃ إن یحصون جاز ۔۔۔إلخ۔ وفی الشامیۃ: قولہ إن یحصون جاز ھٰذا الشرط مبنی علٰی ما ذكرہ شمس الأئمۃ من الضابط وھو أنہ إذا ذكر للوقف مصرفًا لَا بد أن یكون فیھم تنصیص علی الحاجۃ حقیقۃ کالفقراء أو إستعمالًا بین الناس کالیتامٰی۔ (ردالمحتار ج:۴ ص: ۳۶۵، كتاب الوقف)۔
  2. (۲) من سرّہ أن یكون أقوی الناس فلیتوكل علی اللہ۔ ابن أبی الدنیا فی التوكل عن ابن عباس۔ (الجامع الصغیر ص:۵۲۹، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت)۔
  3. (۳) وقال صلی اللہ علیہ وسلم: من سرّہ أن یكون أغنی الناس فلیكن بما عند اللہ أوثق منہ بما فی یدیہ۔ (إحیاء علوم الدین للغزالی، ج:۴ ص:۲۴۴، كتاب التوحید والتوكل، بیان فضیلۃ التوكل)۔