بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسجد‌کے‌مسائل

مسجد کی رقم سے قرض لینا

سوال:۔

میں مسجد کا خزانچی ہوں، مسجد کے تمام حساب میرے پاس امانت ہیں، اور میں خود بھی ایک کاروباری آدمی ہوں، میرے سے اکثر لوگ قرض مانگنے آجاتے ہیں، اور میں دے دیتا ہوں، بعض وقت لوگ قرض واپس کرنے میں دیر کرتے ہیں، اورکبھی کبھار میرے اپنے پاس نہیں ہوتا، مجبوراً میں مسجد کا پیسہ بھی اِستعمال میں لاتا ہوں، لیکن مسجد والوں کی طرف نیت یہ ہوتی ہے کہ جب بھی کوئی کام کے لئے پیسے مانگیں تو میں اسی وقت کہیں سے کرکے دُوں گا، اور میرے پاس اکثر پیسہ آتا رہتا ہے، آیا میں اپنے کاروبار میں مسجد کا پیسہ اِستعمال کرسکتا ہوں یا کوئی شخص ایمان دار میرے پاس آئے اور کہے کہ مسجد کی رقم تو آپ کے پاس ہے، ان میں سے کچھ دے دو، جب مانگوگے تو فوراً دُوں گا، تو میں دُوں یا نہ؟ یا مسجد کی جو رقم آئے اسی حال میں الگ رکھوں، ہاتھ نہ لگاؤں، جواب دے کر میری پیشانی دُور فرمائیں۔

جواب:۔

مسجد کی رقم امانت ہے، اس کو بعینہٖ محفوظ رکھنا چاہئے، اس کو اپنے ذاتی اِستعمال میں لانا یا قرض دینا جائز نہیں، واللہ اعلم!(۱)

  1. (۱) رجل جمع مالًا من الناس لینفقہ فی بناء المسجد فأنفق من تلك الدراھم فی حاجتہ ۔۔۔ لَا یسعہ أن یفعل ذٰلك، فإن فعل ۔۔۔ الضمان واجب۔ (عالمگیری ج:۲ ص:۴۸۰)۔ مع ان القیم لیس لہ اقراض مال المسجد قال فی جامع الفصولین: لیس للمتولی ایداع مال الوقف والمسجد إلّا ممن فی عیالہ، ولَا إقراضہ فلو أقرضہ ضمن، وكذا المستقرض۔ (البحر الرائق ج:۵ ص:۴۰۱، كتاب الوقف)۔