بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسجد‌کے‌مسائل

مسجد کے فنڈ کا ذاتی اِستعمال

سوال:۔

زید ایک مسجد کا تعمیراتی کام کر ارہا ہے، اور سارا فنڈ جو لوگ دیتے ہیں، وہ زید کے پاس ہی ہوتا ہے، اب زید گھریلو پریشانی کی وجہ سے اس مسجد کے تعمیراتی فنڈ میں سے وقتاً فوقتاً کچھ قرض کی نیت سے لیتا ہے، حساب کیا تو زید کے ذمے تقریباً بائیس ہزار روپے بنتے ہیں، اب زید کی اتنی آمدنی بھی نہیں ہے کہ قرض اُتارسکے، تو کیا زید لوگوں سے زکوٰۃ کے پیسے لے کر مسجد کی ادائیگی کردے اور وہ لوگوں سے زکوٰۃ کے پیسے یہ کہہ کر لیتا ہے کہ آپ زکوٰۃ مجھے دے دیں، کیا یہ صحیح ہے؟

جواب:۔

یہ شخص خواہ کسی عنوان سے زکوٰۃ کی رقم لے کر مسجد کے پیسے پورے کردے، اور آئندہ بھوکا تو مرجائے لیکن مسجد کی رقم نہ لے۔(۱)

  1. (۱) رجل جمع مالًا من الناس لینفقہ فی بناء المسجد فأنفق من تلك الدراھم فی حاجتہ ۔۔۔ لَا یسعہ أن یفعل ذٰلك فإن فعل ۔۔۔ الضمان واجب۔ (عالمگیری ج:۲ ص:۴۸۰، طبع بلوچستان)۔