مسجدکےمسائل
مسجد کی زائد چیزیں فروخت کرکے رقم مسجد کی ضروریات میں لگائی جائے
سوال:۔
ملک کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی پاکستان (رجسٹرڈ) کراچی کی زمین واقع سپرہائی وے پر سوسائٹی نے مسجد کی تعمیر شروع کرنی ہے، اس مسجد کے لئے سوسائٹی نے ممبران اور ملک برادری سے عطیات رقوم کی صورت میں دینے کی درخواست کی تھی، اور اس کے لئے باقاعدہ مسجد فنڈ قائم کردیا گیا ہے، اپیل کے بعد ملک برادری کے افراد کی جانب سے رقوم کی صورت میں اور اشیاء کی صورت میں عطیات موصول ہونا شروع ہوئے، اشیاء کی صورت میں جو عطیات وصول ہوئے، وہ یہ ہیں: دیوار کی گھڑیاں، چھت کے پنکھے، صفیں اور جائے نماز وغیرہ، چونکہ مسجد کی تعمیر میں ابھی وقت لگے گا اور کراچی کے موسمی حالات کے پیشِ نظر دیوار کی گھڑیاں اور چھت کے پنکھے زنگ آلود اور خراب ہونے کا اندیشہ ہے، تو کیا سوسائٹی ان اشیاء کو فروخت کرکے اس سے جو رقم حاصل ہو وہ مسجد فنڈ میں شامل کرسکتی ہے یا نہیں؟ یا ان اشیاء کو دُوسری ضرورت مند مسجدوں میں تقسیم کردیا جائے؟ جب تک سوسائٹی ہذا کی مسجد کی تعمیر ہونی شروع ہو جیسی صورت بہتر ہو، شریعت کی رُو سے فتویٰ عنایت فرمائیں۔
جواب:۔
ان اشیاء کو فروخت کرکے مسجد کی ضروریات میں صَرف کیا جائے، جو چیزیں مسجد کی ضرورت سے زائد ہوں، اور ان کو فروخت بھی نہ کیا جاسکتا ہو، وہ کسی دُوسری مسجد میں دے دی جائیں۔(۱)
- (۱) ونقل فی الذخیرۃ عن شمس الأئمۃ الحلوانی أنہ سئل عن مسجد أو حوض خرب ولَا یحتاج إلیہ متفرق الناس عنہ ھل للقاضی أن یصرف أوقافہ إلٰی مسجد أو حوض آخر، فقال: نعم ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۴ ص:۳۵۹، كتاب الوقف، عالمگیری ج:۲ ص:۳۴۹، نظام الفتاویٰ ج:۱ ص:۳۷۱، خیر الفتاویٰ ج:۱ ص:۸۰۳)۔

