مسجدکےمسائل
غیرقانونی جگہ پر مسجد کی تعمیر اور دُوسرے تصرف کرکے ذاتی آمدنی حاصل کرنا
سوال:۔
پچھلے دنوں اخبار میں ایک مضمون نظر سے گزرا تھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ غیرقانونی غیروابستہ جگہ پر مسجد بننے کے بعد اگر حکومت اعتراض نہ کرے تو وہ مسجد قانونی حیثیت اختیار کرلیتی ہے، ہمارے محلے میں مفادپرستوں نے غیروابستہ غیرقانونی طریقے سے جگہ گھیر کر مسجد کی بنیاد ڈالی اور رفتہ رفتہ کافی جگہ گھیر کر باقاعدہ ایک جامع مسجد بناڈالی، اس کے چاروں طرف ناجائز تجاوازت، مکانات، کارخانے وغیرہ بناکر مسجد کے لئے نہیں، بلکہ اپنی آمدنی کا پکا ذریعہ پیدا کرلیا ہے۔ جامع مسجد کے ساتھ ایک لمبا چوڑا رہائشی پلاٹ وغیرہ کی جگہ تھی، اس کو عیدگاہ کے نام سے موسوم کردیا گیا، مینار بھی بناڈالا، جہاں عیدین کی نمازیں ہوتی تھیں، اب عیدگاہ کی جگہ برائے نام رہ گئی، اس جگہ کارخانے وغیرہ بناکر کرایہ پر دے دئیے گئے، جس کا صرف ایک آدمی کرایہ وصول کرتا ہے، اپنی ذاتی ملکیت قرار دیتا ہے، زمین کے ڈی اے کی ہے۔
جواب:۔
اس مسجد کی تعمیر کے وقت چونکہ حکومت کے کسی محکمے کی جانب سے اعتراض نہیں ہوا اور مسجد ویسے بھی مسلمانوں کی ناگزیر ضرورت ہے، اس لئے مسجد تو صحیح ہے، باقی جگہ پر جو ناجائز قبضہ کیا گیا ہے، اس کو ہٹادیا جائے اور مسجد پر اگر غلط لوگ مسلط ہیں تو حکومت ان کا تسلط ختم کرکے مسجد کو محکمہ اوقاف کے حوالے کردے۔

