مسجدکےمسائل
مسجد کے فنڈ کا ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں
سوال:۔
ایک شخص نے اپنے اثر و رسوخ اور دیگر تعلقات کی بنا پر دُوسرے شخص سے تعمیرِ مسجد کے لئے کچھ رقم وصول کی ہے، اب رقم وصول کنندہ شخص نے تعمیرِ مسجد میں کچھ رقم خرچ کرکے باقی رقم کو اپنے ذاتی کام میں خرچ کیا ہے، اس حالت میں شرعاً اس شخص کے متعلق کیا حکم ہے؟ عطیہ دینے والے شخص پر و دیگر اہلِ محلہ، نمازیانِ مسجد پر شرعاً کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟ تفصیل سے جواب دے کر تشفیٔ قلب بخشیں۔
جواب:۔
مسجد کی رقم کا اپنے ذاتی مصرف میں استعمال کرنا اس شخص کے لئے شرعاً جائز نہیں تھا،(۱) لہٰذا اسے چاہئے کہ توبہ واِستغفار کرے اور جو رقم اس نے استعمال کی ہے اس کا ضمان ادا کرے،(۲) اہلِ محلہ کی اور نمازیوں کی ذمہ داری یہی ہے کہ اس شخص سے ضمان وصول کریں۔(۳)
- (۱) متولی المسجد لیس لہ أن یحمل سراج المسجد إلٰی بیتہ ولہ أن یحملہ من البیت إلی المسجد كذا فی فتاویٰ قاضیخان۔ (عالمگیری ج:۲ ص:۴۶۲، كتاب الوقف، الباب الحادی عشر فی المسجد وما یتعلق بہ)۔
- (۲) أکار تناول من مال الوقف فصالح المتولی علٰی شیء فھٰذا علٰی وجھین اما أن یکون الأکار غنیا أو فقیر، ففی الوجہ الأوّل لَا یجوز الحط من مال الوقف۔ (التاتارخانیۃ، كتاب الوقف ج:۵ ص:۷۶۰، طبع إدارۃ القرآن کراچی، أیضًا عالمگیری ج:۲ ص:۴۶۴، كتاب الوقف، الباب الحادی عشر فی المسجد وما یتعلق بہ)۔
- (۳) وللمتولی أن یستأجر من یخدم المسجد یكنسہ ونحو ذالك بأجر مثلہ أو زیادۃ یتغابن فیھا فإن کان أكثر فالْإجارۃ لہ وعلیہ الدفع من مال نفسہ ویضمن لو دفع من مال الوقف ۔۔۔ كذا فی فتح القدیر۔ (عالمگیری ج:۲ ص:۴۶۱)۔

