بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسجد‌کے‌مسائل

مسجد کو تفریح گاہ بنانا اور اس میں فوٹو کھنچوانا جائز نہیں

سوال:۔

ٹھٹھہ کی ایک مسجد میں غیرملکی سیاحوں نے جن میں نیم برہنہ لباس میں عورتیں بھی تھیں، منبر و محراب کے قریب مختلف زاویوں میں لیٹ، بیٹھ کر تصویرکشی کروائی، تو ایک صاحب نے ایک ہفت روزہ میں مذہبی کالم لکھنے والے سے پوچھا تھا کہ کیا یہ مسجد کی بے حرمتی نہیں؟ تو جواب میں فرمایا گیا کہ: ’’آپ پریشان نہ ہوں، یہ کوئی خاص مسئلہ نہیں، سیاح کبھی بے ادبی نہیں کرتے، بلکہ فوٹو کے ذریعہ یادگار لمحات کو محفوظ کرلیتے ہیں۔‘‘ مولانا! کیا یہ نیم برہنہ لباس میں غیرمسلم خواتین کا مختلف زاویوں سے مسجد میں فوٹو کھنچوانا مسجد کی بے حرمتی نہیں؟ جبکہ ہمارے ہاں تو مسلم خواتین کا پوری طرح پردے کی حالت میں بھی مسجد میں جانا معیوب سمجھا جاتا ہے۔

جواب:۔

اوّل تو مسجد کو تفریح گاہ اور سیر و سیاحت کا موضوع بنانا ہی جائز نہیں، پھر نیم عریاں کافرات کا مسجد میں اٹکھیلیاں کرنا بے حد ناروا بات ہے۔ جن کے بارے میں یہ بھی معلوم نہیں کہ انہوں نے غسلِ جنابت بھی کیا ہے یا نہیں؟ اور پھر مسجد میں فوٹو لینا ان سب سے بدتر بات ہے، اس لئے یہ فعل کئی حرام اُمور کا مجموعہ ہے،(۱) اور قطعاً مسجد کے احترام کے منافی ہے، انتظامیہ کا فرض ہے کہ اس کا انسداد کرے۔

  1. (۱) فالحاصل ان المساجد بنیت لأعمال الآخرۃ مما لیس فیہ توھم اھانتھا وتلویثھا مما ینبغی التنظیف منہ ولم تبن لأعمال الدنیا ولو لم یكن فیہ توھم تلویث واھانۃ علٰی ما أشار إلیہ قولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام فإن المساجد لم تبن لھٰذا۔ (حلبی كبیر ص:۶۱۱)۔ أیضًا: ومنھا أنہ یحرم علیھما وعلی الجنب الدخول فی المسجد سواء کان للجلوس أو للعبور وھٰكذا فی منیۃ المصلی۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۳۸، الفصل الرابع فی أحکام الحیض والنفاس والْإستحاضۃ)۔