بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسجد‌کے‌مسائل

مسجد کے قریب فلم شو اور دُوسرے لہو و لعب کرنا سخت گناہ ہے

سوال:۔

ہمارے محلے میں چند لوگ مسجد کے قریب ’’فنکشن‘‘ کے نام سے راگ رنگ کی محفلیں (فلم شو وغیرہ) جماتے ہیں۔ اس میں لاؤڈاسپیکر کا استعمال بھی آزادانہ ہوتا ہے، اس صورتِ حال کے پیشِ نظر ہماری مسجد و مدرسہ کے منتظمین حضرات نے پہلے تو ان لوگوں سے گزارش کی کہ وہ مسجد کی حرمت کا خیال کریں، لیکن انہوں نے یہ اپیل قبول نہ کی، تو قانونی چارہ جوئی کے ذریعہ اس سلسلے کو بند کرادیا۔ اس سلسلے کے بند ہونے کی وجہ سے اب یہ لوگ انتقامی کاروائیاں کرنے لگے ہیں، انہوں نے مسجد و مدرسہ کے منتظمین کے خلاف ایک ’’دستخطی مہم‘‘ شروع کردی ہے، اور خوف و ہراس کی فضا قائم کر رہے ہیں، کیا ایسے لوگوں کو منتظمینِ مدرسہ اور اِمام کے خلاف شرعاً مداخلت کی اجازت ہے یا نہیں؟ نیز اس ’’دستخطی مہم‘‘ کی شرعی کیا حیثیت ہے؟ دیگر یہ لوگ جو فلم شو کرنے کے لئے چندہ جمع کرتے ہیں، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب:۔

جو صورت سوال میں بیان کی گئی ہے، اس کے مطابق ان لوگوں کا مسجد کی انتظامیہ کے خلاف یا اِمام کے خلاف مہم چلانا شرعاً و اخلاقاً غلط ہے، ان کو اپنے فعل پر توبہ کرنی چاہئے، مسلمان کی شان یہ ہے کہ جب اس کو کسی گناہ سے روکا جائے تو اس پر اصرار نہ کرے، بلکہ اپنی غلطی پر ندامت کا اظہار کرے، گناہ کے کام کے لئے چندہ وغیرہ کرنا حرام ہے،(۱) مسجد میں شور کرنا حرام ہے،(۲) اور گانے وغیرہ کی آواز اور باہر کا شور لاؤڈاسپیکر کے ذریعہ مسجد میں پہنچانا مسجد کی بے حرمتی ہے، جس کی وجہ سے ایسا کرنے والوں پر فرشتے لعنت بھیجتے ہیں، اور نمازیوں کی نماز اور ذکر و تلاوت میں بھی خلل پیدا ہوتا ہے، اس لئے ایسے لوگوں کو اس حرکت سے توبہ کرنی چاہئے، ورنہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کے گھروں پر وبال نازل ہوگا۔(۳)

  1. (۱) ﵟ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ ﵞ المائدة ٢۔
  2. (۲) عن الحسن مرسلًا قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یأتی علی الناس زمان یكون حدیثھم فی مساجدھم فی أمر دنیاھم فلا تجالسوھم فلیس ﷲ فیھم حاجۃ۔ رواہ البیھقی فی شعب الْإیمان۔ (مشكوٰۃ ص:۷۱)۔
  3. (۳) ﵟ وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ أَن يُذۡكَرَ فِيهَا ٱسۡمُهُۥ وَسَعَىٰ فِي خَرَابِهَآۚ ﵞ البقرة ١١٤۔