بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسجد‌کے‌مسائل

مسجد کے لاؤڈاسپیکر کی آواز کتنی ہونی چاہئے؟

سوال:۔

ہمارے محلے کی ایک مسجد میں بے حساب لاؤڈاسپیکر لگے ہوئے ہیں، جن سے اَذان شریف کی آواز اتنی زور سے آتی ہے کہ سب جگہ کے دَر ودِیوار ہل جاتے ہیں۔ اس مسجد کےمؤذِّن صاحب سے مؤدّبانہ گزارش کی گئی ہے کہ اَذان کی ٹون ذرا آہستہ فرمادیں، مگر وہ اس امر کو غیرمسلمان قرار دیتے ہیں، اور بحث وتکرار کرتے ہیں کہ اسلام میں کونسا قانون اور قاعدہ ہے کہ اَذان کی آواز محیط کی جائے۔ آپ کی خدمت میں گزارش ہے کہ اس کم علم انسان کو آپ کی راہنمائی کی ضرورت ہے کہ کوئی ایسے حوالہ جات سے مطلع کیا جائے جو کہ ان مؤذِّن صاحب کو دِکھا دئیے جائیں کہ اَذان کا اصل مقصد ’’شور وغوغا‘‘ ہے یا کہ انسانوں کو نماز کی طرف بلانا ہے؟ جس آواز کو سن کر ہمارے دِلوں میں راحت، خوشی اور سکون ملنا چاہئے، اگر اس آواز کو سن کر دِل میں اور دِماغ میں منفی خیال آئیں تو اس چیز سے کیسے پرہیز کیا جائے؟

جواب:۔

لاؤڈاسپیکر کا اِستعمال ضرورت ہے، شوق کی چیز نہیں، لاؤڈاسپیکر کی آواز اتنی ہونی چاہئے جس سے بلاوجہ لوگوں کو اِیذا نہ ہو۔