بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسجد‌کے‌مسائل

مساجد میں ذاتی سوال کرنا اور مدرّس کا چندہ کرنا

سوال:۔

اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ مساجد میں سائل حضرات نماز ختم ہوتے ہی اپنا سوال اور اپنی مجبوری کا اِظہار شروع کردیتے ہیں، اور اسی وقت نمازی حضرات ’’خاموش رہو، خاموش رہو، بیٹھ جاؤ، مسجد ہے‘‘ کے جملے ادا کرکے سائل کو ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں، جس سے نمازیوں کی نماز میں خلل واقع ہوتا ہے۔ کیا اس طرح مسجدوں میں سوال کرنا جائز ہے؟ اسی طرح رمضان میں مدارس کے چندے کا اِعلان نمازوں کے بعد ہوتا ہے، اس کے بارے میں کیا شرعی حکم ہے؟ کیا ان لوگوں کو مسجد سے باہر آنے کے بعد دینا جائز ہے؟

جواب:۔

پیشہ ور گداگروں کا مسجد میں بھیک مانگنا جائز نہیں، بلکہ ان کو دینا بھی جائز نہیں،(۱) تاہم ہمارے یہاں جو رِواج ہوگیا ہے کہ سائل اُٹھ کر سوال کرتا ہے تو لوگ ’’بیٹھ جاؤ، بیٹھ جاؤ‘‘ کے نعرے بلند کرنا شروع کردیتے ہیں، جس سے نمازیوں کو تکلیف ہوتی ہے، اور ان کی نماز میں خلل واقع ہوتا ہے، یہ بھی صحیح نہیں۔(۲)

مسجد کی اِنتظامیہ کو ایسا اِنتظام کرنا چاہئے کہ ان بھکاریوں اور گداگروں کو مسجد میں سوال کرنے کا موقع نہ دیں۔

۲:۔ کسی شخص کی ضرورت کے لئے اِمام مسجد کا یا معزّزین میں سے کسی آدمی کا سوال کرنا، اور اِعلان کرنا دُرست ہے،(۳) چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعض ایسے حضرات کے لئے جو مستحق تھے، مسجد میں چندہ فرمایا، اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ان کی اِعانت کی ترغیب دی۔(۴)

۳:۔ اسی طرح دِینی مدارس کے لئے یا مساجد کے لئے یا اور دِینی ضروریات کے لئے مسجد میں اِعلان کرنا جائز ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’جیش العسرت‘‘ کے لئے چندے کا اِعلان فرمایا تھا۔(۵)

  1. (۱) ص: ۴۹۲ کا حاشیہ ۱، اور ۴۹۳ کا حاشیہ ۲ملاحظہ ہو۔
  2. (۲) عن ابن عمر أن عمر نھٰی عن اللغط فی المسجد وقال: إن مسجدنا ھٰذا لَا ترفع فیہ الأصوات۔ (كنز العمال ج:۸ ص:۳۱۵، طبع مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)۔
  3. (۳) قال فی النھر: والمختار أن السائل إن کان لَا یمر بین یدی المصلی ولَا یتخطی الرقاب ولَا یسأل إلحافًا بل لَا بد منہ فلا بأس بالسؤال والْإعطاء اھـ۔ ومثلہ فی البزازیۃ، وفیھا ولَا یجوز الْإعطاء إذا لم یكونوا علٰی تلك الصفۃ المذكورۃ۔ (ردالمحتار ج:۲ ص:۱۶۴، باب الجمعۃ، مطلب فی الصدقۃ علٰی سؤال المسجد)۔
  4. (۴) عن عیاض بن عبداللہ قال: سعمت أبا سعید الخدری یقول: جاء رجل یوم الجمعۃ والنبی صلی اللہ علیہ وسلم یخطب بھیأۃ بذّۃ فقال لہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أصلیت؟ قال: لَا، قال: صل ركعتین وحثّ الناس علی الصدقۃ فالقوا ثیابھم فأعطاہ منھا ثوبین فلما کانت الجمعۃ الثانیۃ جاء ورسول اللہ صلی اللہُ علیہ وسلم یخطب فَحَثَّ الناس علی الصدقۃ قال: فالقی أحد ثوبیہ، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: جاء ھٰذا یوم الجمعۃ بھیأۃ بذّۃ فأمرت الناس بالصدقۃ فألقوا ثیابا فأمرت لہ منھا بثوبین، ثم جاء الآن فأمرت الناس بالصدقۃ فألقی أحدھما فانتھرہ وقال خذ ثوبك۔ (سُنن النسائی ج:۱ ص:۲۰۸، باب حث الْإمام علی الصدقۃ یوم الجمعۃ فی خطبتہ، طبع قدیمی کتب خانہ کراچی)۔
  5. (۵) عن عبدالرحمٰن ابن خباب قال: شھدتّ النبی صلی اللہ علیہ وسلّم وھو یحثَّ علٰی جیش العسرۃ فقام عثمان فقال: یا رسول اللہ! علیّ مائۃ بعیر بأحلاسھا واقتابھا فی سبیل اللہ، ثمّ حضّ فقام عثمان فقال: علیّ ثلاثمائۃ بعیر باحلاسھا واقتابھا فی سبیل اللہ، فأنا رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ینزل عن المنبر وھو یقول: ما علٰی عثمان ما عمل بعد ھٰذہ ما علٰی عثمان ما عمل بعد ھٰذہ۔ رواہ الترمذی۔ (مشكوٰۃ ص:۵۶۱ باب مناقب عثمان رضی اللہ عنہ)۔