بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسجد‌کے‌مسائل

مسجد میں دُنیاوی باتیں کرنا مکروہ ہے

سوال:۔

آج کل عام بات یہ ہے کہ اکثر حضرات مسجد میں بیٹھ کر ملکی حالات یا بین الاقوامی حالات یا دُنیاداری کی باتیں کرتے ہیں، حالانکہ اس کی ممانعت ہے، منع کرنے پر یہ کہتے ہیں کہ سیاست دین سے علیحدہ نہیں ہے، آپ دونوں چیزوں کو کیوں علیحدہ سمجھتے ہیں؟ اور دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ مسجدِ نبوی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسائل حل کیا کرتے تھے، آپ کے پاس وفود آتے تھے، اور آپ بھی باتیں بیان کرتے تھے، اور مولوی لوگوں نے دین کو بہت تنگ کردیا ہے، اس لئے ہم غلط نہیں ہیں۔ کیا مسجد میں اس قسم کی باتیں کرنی چاہئیں یا نہیں؟

سوال:۔

مسجد میں دُنیاوی اور دینی باتوں کی حدود کہاں تک ہیں؟ میرا مطلب ہے کہ ہم مسجد میں نماز سے فراغت کے بعد ایک دُوسرے کی خیریت معلوم کرتے ہیں، حال چال پوچھتے ہیں، دُوسرا شخص جواب میں اپنی داستان سنانا شروع کرتا ہے جو کہ سراسر دُنیا سے متعلق ہوتی ہے، مثلاً بچوں کے اسکول میں داخلے کے مسائل، کم آمدنی اور تجارت میں خسارہ، رشتہ داروں کے جھگڑے وغیرہ، اب جہاں تک سلام و دُعا اور خیریت کی بات تھی اس کا دین سے متعلق ہونا تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن مذکور بالا باتوں کو کیا درجہ دیا جائے؟ اور کس طرح اس تمیز کو باقی رکھا جائے کہ جہاں مخاطب کسی ایسے پہلو پر گفتگو چھیڑے تو اس سے یہ کہہ دیا جائے کہ بس اب ہم باہر چل کر گفتگو کئے لیتے ہیں، اب ہم حدود سے متجاوز ہوگئے، کیا آپ از راہ کرم ہمیں ایسا پیمانہ بتلائیں گے جو ہماری نیکیوں کے ضائع ہونے کا سبب نہ بنے؟

جواب:۔

حدیث میں ہے کہ مساجد صرف ذکر اللہ، تلاوتِ قرآن اور نماز کے لئے بنائی گئی ہیں، مسجد میں دُنیا کی باتیں کرنا مکروہ ہے۔(۱) یہ صحیح ہے کہ دین اور سیاست جدا نہیں، مگر سیاست سے دینی سیاست مراد ہے، دورِ حاضر کی سیاست مراد نہیں۔ بعض بزرگوں کا ارشاد ہے کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم نے کثرتِ ذکر سے بازار کو مسجد بنادیا تھا، اور تم نے مسجد کو بازار بنالیا ہے۔ البتہ ضرورت کی بات مسجد میں کرلینا جائز ہے۔

جواب:۔

خیرخیریت پوچھ لینا اور کوئی ضروری بات کرلینا اس کی تو ممانعت نہیں، لیکن لایعنی قصے لے کر بیٹھ جانا اس کی اجازت نہیں، مسجد میں دُنیا کی غیرضروری باتیں کرنا، بعض حضرات نے اسے مکروہ فرمایا ہے اور بعض نے حرام کہا ہے۔(۲)

  1. (۱) فالحاصل ان المساجد بنیت لأعمال الآخرۃ مما لیس فیہ توھم أھانتھا وتلویثھا مما ینبغی التنظیف منہ ولم تبن لأعمال الدنیا ولو لم یكن فیہ توھم تلویث واھانۃ علٰی ما أشار إلیہ قولہ علیہ الصلاۃ والسلام فإن المساجد لم تبن لھٰذا فما کان فیہ نوع عبادۃ ولیس فیہ اھانۃ ولَا تلویث لَا یكرہ وإلّا كرہ۔ (حلبی كبیر ص:۶۱۱، فصل فی أحکام المساجد)۔
  2. (۲) الجلوس فی المسجد للحدیث لَا یباح بالْإتفاق، لأن المسجد ما یبنی بأمور الدنیا۔ (عالمگیری ج:۵ ص: ۳۲۱)۔